سنو! یہ فرض تمہارا بھی ہے

تحریر۔ نادیہ احمد

یہ شہرنا پرساں،شہر خموشاں، سہما سہما شہرتمنا ۔۔۔۔ جہاں اپنوں پے ستم غیروں پہ کرم کیا جاتا ہے


جہاں ماضی کے بھتہ سسٹم ،کوٹہ سسٹم، لینڈ مافیا، تنظیم گردی، دہشت گردی،اقرباپروری، ٹارگٹ کلنگ اورملازمتوں کی ناجائز فلنگ کے باوجود منافق ،کرپٹ، لادین اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریٹس کی بدنیت، خودغرض ہاتھوں میں اک بار پھر شہر کی قسمت کی باگ ڈور تھما دی گئی۔ کراچی کے مکینوں کے زخموں پر نمک پاشی کے بعد اس نئے قانون کے ذریعے ان کے زخموں کو کھرچا گیا مگر کچھ با شعور افراد کو چھوڑ کر باقی لوگ سکھ کی بانسری بجاتے رہے جیسے کے راوی چین نے لکھ رہا ہواور اپنے حق کے لیے تگ و دو کر تے لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ کراچی کی تین کروڑ عوام کے ٹیکسوں پر پلتی ہماری حکمران اشرافیہ کے ساتھ ساتھ باشعور قوم کے مستقبل کے معمار اور مہنگائی کی چکی میں پستےعوام ان مصائب و مسائل سےلاتعلق ہیں یا شاید جان بوجھ کر نظریں چرانے پر مجبور ہیں
توادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سےگلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
یقین جانیے روشنیوں کے شہر کراچی کو نیست و نابود کرنےوالے عناصرپچھلے کئی سالوں سے سازشوں میں مصروف ہیں یہ بل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
کراچی کی معصوم عوام جب بغیر دودھ اور چینی کی چائے پی کر ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے کچرے کے ڈھیر اور ابلتے گٹروں سے بچتے کسی لٹیرے کے ہاتھوں اپنا موبائل اور مہینے بھر کی محنت کے بعد حاصل کی گئی تنخواہ لٹوا کر محلہ کے پولیس اسٹیشن میں جاتے ہیں تو وہاں چائے پانی دینے کے بعد بھی رپٹ نہیں لگائی جاتی اور اس پر ستم یہ کہ کہا جاتا ہے آپ نے گھبرانا نہیں ہے

جب روٹی کپڑااورمکان چھین لیا جاتا ہے
وہ عوام جس کے پاس بجلی نہیں مگر بجلی کا بل 50 فیصد زیادہ دیتی ہے۔ جس کے پاس پانی نہیں مگر پانی کا بل دیتی ہے ۔۔جو گیس کی لوڈ شیڈنگ میں آج پتھر کے زمانے کی طرح لکڑیوں پر کھانا پکانے پر مجبور ہے۔۔ بل پھر بھی دیتی ہے۔وہ عوام جسے کرونا کے نام پر بے وقوف بنا کر لاک ڈاون میں اس کے بچوں کا مستقبل تباہ کردیا گیا۔ وہ عوام جس کے بھوک سے بلکتے بچوں کو روٹی نہیں بلکہ مفت خسرہ اور رو بیلہ کا ٹیکہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔وہ عوام جس کی آبادی کا صحیح اعداد و شمار خود حکومت کے پاس بھی نہیں۔ جہاں پینتالیس فیصد آبادی کے لیے صرف ایک یوسی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ جہاں ڈومیسائل، پینشن، شناختی کارڈ کالجز میں داخلہ اور پٹرول کے لیے گھنٹوں لمبی لائن میں بے چارے عوام ہی نظر آتے ہیں. اس عوام کو یہ احساس ہی نہیں کہ یہ انکا مقدر نہیں ہے بلکہ یہ تو باقاعدہ ایک سازش ہے کراچی اور کراچی کے مکینوں کے خلاف۔

مجودہ سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کےنام پرآپ کےحقوق کی دھجیاں اُڑائی گئیں۔اندھےقانون کو اپاہج بھی کردیا گیا
ڈگری یافتہ لوگ بریانی اور محبت کا شربت بیچنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف
وزراء کے کتوں کے لئےڈاکٹروں کی فوج کھڑی ہے
حکمران سیاسی مراعات کی رنگین دنیا میں مگن ہیں۔امراء مصلحت کے نام پراغیارکےدروازے پرکشکول لیے کھڑے ہیں کہ یہ مصلحت کا تقاضا ہے ۔

ارے یہاں تو وہ حال ہے کہ کراچی کی بلدیاتی اور صوبائی حکومت کی رسہ کشی میں رسہ بھی آ پ ہی ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ،کوئی بیمار ہے، کوئی فرار ہے، جو یہاں ہے وہ بالکل بیکار ہے۔ کراچی کے مسائل پر کمیٹی کمیٹی کا کھیل جاری ہے بلدیاتی اداروں پر اختیار اور ہر صاحب اقتدار کا پاؤں کراچی پیکج کی شہ رگ پر ہے امداد پر امداد لی جاتی ہے مگر کراچی کی عوام کے حالات نہیں بدلتے ۔۔۔پہلے ہی روپے کی بے قدری کمر توڑ مہنگائی اور ہیبت ناک بے روزگاری نے ہمارا جینا دوبھر کررکھا تھا رہی سہی کسر اس اندھے ،بہرے اور لنگڑے قانون نے پوری کر دی۔ اور اس با رونق شہر کے با شعور افراد" صم بکم عمی" کی مثال بنے اپنے گھروں میں ہیٹر لگائے ۔مونگ پھلیاں اور کافی سے شغل فرما رہے ہیں اور ادھر وہ ہیں جو 31دسمبر کی رات سے موسم کی بے اعتنائی کے باوجود ہمارے حقوق کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومت کا تو بھینس کے آگے بین بجانے والا معاملہ ہے مگر خدارا! اس بات کو سمجھیں۔ غلامی کی بد ترین شکل وہ ہے جب غلاموں کو اپنی ذنجیر سے پیار ہو جائے۔ ہم غلام نہیں ہیں۔ ہمیں خلیفہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ہم ظلم سے دبنے والے نہیں بلکہ ظالم کو مٹانے والے ہیں۔ اس وقت میں، خواہ ہمارا تعلق کہیں سے ہو ، اپنے حق کے لیے آ واز اٹھا نا ، اور حق کے علمبردار و ں کے قدم سے قدم ملا نا۔۔ یہ فرض ہمارا بھی ہے ، تمہارا بھی ہے ۔ اس تنگ نظری اور متعصبانہ رویے کے خلاف ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا تاکہ اپنی آ نے والی نسلوں کی خوشحالی کی بنیاد مضبوط کرسکیں۔

رستہ ہے پرخار تو کیا،چلنا ہے دشوار تو کیا
دیواروں کو ڈھانا ہے ، اپنی منزل  پانا  ہے