ماہ نور شاہد

اے ابن آدم تجھے زمن نے تیرے ہی آگے جھکا دیا ہے

جو تجھ کو رتبہ دیا تھا رب نے تیرے عمل نے گنوا دیا ہے

 

تیری یہ دولت، تیری محبت اور یہ عداوت

جسے لٹانا تھا دین حق پر اسےعدو پرلٹا دیا ہے

 

جسے بتایا تھا تجھ کو رب نے ہے تیرا دشمن

اسی کے قدموں پہ اپنے دل کو جما دیا

 

تجھے بنانی تھی اپنی جنت خود ہی کے ہاتھوں

ہائے کہ افسوس نشاں کو اپنے خود ہی کے ہاتھوں مٹا دیا ہے


تجھے جھکا نا تھا اپنے سر کو خدا کے آگے

جہاں نہ جھکنا تھا تیرے سر کو اسی کے آگے جھکا دیا ہے

 

(ماہنور شاہد)