کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔

سید عارف مصطفی

پاکستان میں کتب بینی کو کار ثواب سمجھا جاتا ہے اسی لیئے وطن عزیز میں پرہیز گاروں اور

کتاب پڑھنے والوں کی تعداد ایک جتنی ہی ہے... جو منش من کو نا بھاتا ہو لیکن ملنے و بیزار کرنے بار بار چلا آتا ہو، آپ اسے دو تین کتابیں دے کر پڑھنے اور تبصرہ کرنے کو کہیئے انشاءاللہ ع - پھر آپ نہ دیکھیں گے قمر کی صورت ... پاکستان میں معتبر نظر آنے کیلیئے ہاتھ میں کسی نہ کسی کتاب کو تھامے ہونا بیحد ضروری ہے جتنی ضخیم کتاب ہو اعتبار و وقار میں اسی قدر اضافہ بھی یقینی ہوتا ہے لہٰذا زیادہ معتبر نظر آنے کے لیئے ٹیلی فون ڈائریکٹری کو بھی کؤر چڑھاکےتھاما جاسکتا ہے،،،تابش کے خیال میں دانشورسمجھے جاسکنے کا یہ سہل نسخہ ہے اور بہت مجرب ہے تاہم ذرا قباحت یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے دشوار مسائل کے حل کیلیئے آپ سے رجوع کرسکتے ہیں اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ دانشور دراصل وہ ہنرمند ہوتا ہے کہ جو کسی دشوار مسئلے کو حل کرنے کے دوران ہی اتنا پیچیدہ و صبر آزما بنا دے کہ سائل مسئلے کے حل کی طلب سے ہی بےنیاز ہوجائے ۔۔۔ لیکن اس سے یہ بدگمانی کرنا مناسب نہیں کہ دانشوری مطالعے کی مرہون منت ہے بلکہ اکثر تو اسے اپنی دانش کی توہین باور کرتے ہیں کہ وہ مطالعہ کریں ۔۔۔ انکے خیال میں کتاب کی ضرورت یا تو طالبعلم کو ہوتی ہے یا ردی فروش کو ۔۔۔۔ کمال تو یہی ہے کہ کچھ پڑھے بغیر ہی یوں منہ کھولا جائے کہ سننے والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں اور مفکرین تو یہ کوشش کرتے ہیں کہ آپ کو ہمیشہ اتنا فکرمند رکھا جائے کہ آپکو کتاب پڑھنے کا دھیان ہی نہ آسکے- ان دونوں سیانوں کےبیچ میں کہیں 'مصنف' نامی مخلوق بھی پائی جاتی ہے کہ جو اپنی کتاب کے بل پہ آپکے ان خوشگوار لمحات کو بھی چھین لینا چاہتی ہے کہ جو آپ بستر پہ پڑے پڑے فکر کائنات تصور جاناں میں غلطاں رہ کر گزار سکتے تھے،،،
لیکن اسکے باوجود کتاب کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوئی اور نہ ہوگی کیونکہ شپینٹوزا نے کہیں کہا تھا کہ " کتاب ایک بہت فائدے کی چیزہے، اسنے تو میری حالت ہی بدل دی ہے۔۔۔ تاہم میرا کہنا یہ ہے کہ تیزی سے بدلتے حقائق نےکتاب دوستی پہ بہت کاری ضرب بھی لگادی ہے ۔۔" خود میرا یہ قول ہے کہ اب اس معاشرے میں ادیبوں کے لیئے جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے کہ وہ غیر نصابی کتب صرف گن پوائنٹ پہ ہی پڑھواسکیں گے.. اور پھر بھی کچھ نا کچھ لوگوں کےمقدر میں رتبہء شہادت ہی آئیگا... فی زمانہ کتب بینی کا زوق اس ابتر حالت کو پہنچا ہواہے کہ اکبر الہ آبادی ہوتے تو اپنے اک مشہور شعر کو یوں پڑھتے۔۔۔ لکھوائی ہے رقیبوں نے رپٹ جا جاکےتھانے میں۔۔۔ کہ اکبر کتابیں پڑھتا ہے اس زمانے میں۔۔۔ اور ایک شاعر یوں شکوہ سنج ہوتے کہ،، ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام۔۔۔ وہ کتابیں بھی پڑھتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا۔۔۔ ایک ہمارےبچپن کا وقت تھا کہ جب ہرطرف کتابوں کی بہار تھی اور لائبریریاں کھچا کھچ بھری رہتی تھیں ، اب یہ صورت ہے کہ لائبریری جائیے تو بس تین چار ہی چہرے نظر آئیں گے جو دراصل دائمی بیروزگار یا مستقل مزاج عاشق ہیں جو کہ گھر والوں کے طعن وتشنیع سے بچنے کیلیئے وہاں عارضی طورپہ پناہ گزیں ہیں ، آپ انکے ہاتھوں میں عام طور پہ اخبارات ، رسائل اور بڑے سائز کی کتب ہی دیکھیں گےجنکے اوپر یا نیچے سے آپ انہیں ادھر ادھرنظریں دوڑاتے ہی پائیں گے، ایک دو تو صرف انہی نشستوں پہ شست باندھے ملیں گے کہ جو باہر کے رخ کھلے ہوئے دروازے کی سیدھ میں ہیں اور جہاں سے قریبی بس اسٹاپ بھی احاطہء نگاہ میں رہتا ہے۔ وہاں ایک آدھ نہایت بوسیدہ سے گدھ نما بزرگ بھی ہمہ وقت کسی ایک ہی جگہ دھرے ملیں گے کہ جنکی شناختی علامت ہی نہایت دلجمعی سے کسی موٹی تازی سی کتاب کی جڑوں میںبیٹھےرہنا ہوتاہے۔۔انکی ہروقت وہاں دستیابی سے کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مدتوں پہلے لائبریری آنے کے بعد واپس گھر جانا بھول گئے ہیں ، اور وہیں کسی ٹیبل کے نیچے چھپ جایا کرتے ہیں۔۔۔
گو کہ اب عام رواج کتابوں کو پڑھنے کے بجائے کتابی چہرے پڑھنے کا بن چکا ہے، لیکن چند لوگ پھر بھی ایسے ہیں جوکتابیں پڑھنے سے اب بھی باز نہیں آتے،، مرزا معقول کے نزدیک یہ لوگ وہ ہیں جو اس شدید خطرے کے عالم میں بھی بیٹھے غرق مطالعہ ہوتے ہیں اور کتابوں کے صفحے پھڑپھڑاتے ہیں کہ جب انکا جہاز غرق ہورہا ہوتا ہے اور لوگ خوف سے پھڑپھڑا رہے ہوتے ہیں۔۔۔ یوں سمجھیئے کتب بینی ایک نشے کی جیسی لت ہےاور مطالعے کا ہر اصلی شائق اس میں لت پت ہے۔۔۔ کتابوں کی مہنگائی ایک مسئلہ ہے جو انکی نئی دیدہ زیب طباعت سے جڑا ہے، یہ بھی ہے کہ آجکل مضبوط تحریر کتابوں کو اتنا مربوط نہیں کرتی جتنی ایک مضبوط جلد ، مرزا معقول اضافی یہ کہتے ہیں کہ اب ہر کتاب پہ ایک چمکیلے سے چکنے سے گرد پوش کی موجودگی اتنی ہی ضروری سمجھی جاتی ہے جتنی کہ مصنف کے جسم پہ پوشاک ، لیکن پوشاک کا نا ہونا آجکل پھربھی قابل برداشت ہے۔۔۔ خیر چھوڑیئے گرد پوش ہونا اسلیئے بھی ضروری ہے کہ اگر کتاب کے اندر کچھ اچھا نا ہو تو کم ازکم باہر تو کچھ بہتر ہو،،،
وجہ جو بھی ہو ہمارے ملک میں ایکسپو کا کتب میلہ ہی وہ مقام ہے کہ جہاں بڑی تعداد میں ایلے میلے اور کتابیں‌ اور کتاب چہرے ایک ساتھ دستیاب ہوتے ہیں اور اگر سیلز گرل خوشنماء ہو تو اسکے صدقے بہت سی میچنگ کتب بھی خرید لی جاتی ہیں ،، لیکن ان جیسے اور ان جیسے چند کتاب دوست مقامات سے قطع نظر وطن عزیز میں عمومی طور پہ کتاب دشمن ماحول بڑھتا جارہا ہے اور لگتا ہے کہ وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ ادیب و شاعر اپنی کتاب چرانے والے کی بلائیں لیں گے اور جو کوئی بھی منش زائد از نصاب کتاب پڑھتا پایا گیا اسکی یا تو فی الفور نظر اتاری جائے گی یا پھر نفسیاتی ہسپتال کی ایمبولینس طلب کرلی جائے گی ۔۔۔۔ کیونکہ یہاں کتابوں‌کی طلب کی حالت یہ ہے کہ پاکستان میں اسمبلی کے حاضری سے بھرپور لگاتار دو اجلاس ہوجانا اتنا غیر یقینی نہیں جتنا کہ کسی کتاب کا سال بھر میں دوسرے ایڈیشن شائع ہونے کی نوبت آجانا سوائے اسکے کہ وہ کتاب کسی خدا رسیدہ کے آنے پہ چھپادینے لائق نہ ہو یا پھر پہلا ایڈیشن ہی صرف 100 کی تعداد میں شائع کراکے نوے کتابیں دوستوں و اقرباء کے گھر یا دفتر پہ اچانک پہنچ کے تحفے میں دیدی جائیں ۔۔۔ یہ یقینی امر ہے کہ آجکل کسی کتاب کا ایک برس پرانا نسخہ کسی کتاب فروش کے پاس نہ ملے تو بارے پان فروشوں سے بھی پوچھ لینا مناسب بلکہ بہت مفید رہتا ہے "
اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آجکل کتابیں بیحد مہنگی ہوچلی ہیں ۔۔ اور اسی لیئے جو شوقین لوگ کتاب میلے میں نہیں جاتے وہ دکانوں کی بجائے ٹھیلوں سے اپنی ٹھرک مٹاتے ہیں لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ ٹھیلوں سے خریداری کی وجہ سے بہت سی نئی کتب سے محروم رہ جاتے ہیں، ۔۔۔۔ ان ٹھیلوں کے مستقل مہمانوں میں سبھی وہ نہیں ہوتے جو کہ الفاظ والی تحریر کے اسیر مطالعہ ہوتےہیں، بقول تابش بہتیروں کا ذوق مطالعہ بڑا تفتیشی و مشاہداتی ہوتا ہے اور وہ صرف "اصلی، باتصویر" کی ٹیگ والی کتب کے ہی رسیا ہوتے ہیں، یہاں رسیا کے لفظ کو تاثراتی گردانیئے کیونکہ یہ رسیلا سے قریب تر صوتی آہنگ رکھتا ہے- اسے ہم " مشاہداتی مطالعہ " بھی کہ سکتے ہیں ۔۔۔ ویسے بھی ٹی وی موبائل اور کمپیوٹرنے اس ادب کو بھی در یتیم کر چھوڑا ہے کہ جو اپنے فروغ کیلیئے تکیوں پہ تکیہ کرتا تھا اور زیرتکیہ سانس لیتا تھا،،،
معاشرے کے دیگر عناصر کی طرح کتاب کے بھی دشمن ہوتے ہیں ، بعضے لائبریری میں نہیں رہنے دیتے اور کئی اپنے گھر میں ۔۔۔ اگر دادا ادیب تھے تو پوتا انکے سوئم کے اگلے دن ہی کباڑی کا ٹھیلہ دورازے پہ منگا کر انکا سارا خزانہء علم فٹا فٹ عام عوام کی دسترس میں پہنچادیتا ہے۔۔ اکثر خواتین بھی کتابوں سے دشمنی کا رویہ رکھتی ہیں کیونکہ یہ انکے شوہروں کو انکی غیبت اور چغلیوں سے محفوظ کرتی ہیں، اور انکےمجازی خداؤں کو زیادہ سیانا بناتی ہیں، لیکن سبھی ایسی نہیں ہوتیں ،کیونکہ وہ تو صوفوں اور پردوں کے شیڈ سے میچنگ کرتی ہوئی کتابیں لا کر اپنے ڈرائنگ روم میں سجاتی ہیں اور انکی حفاظت دل وجان سے کرتی ہیں، مجال ہے کہ کسی کا ہاتھ انہیں چھوجائے،،، متعدد تو نوخیزی میں رضیہ بٹ کےپڑھے گئے ناولوں اور پروین شاکر کی شاعری کا ہیرو ہاتھ نا لگنے پہ دائم روگ پالتی ہیں اور بڑی مستقل مزاجی سے یہ روگ زندگی بھر کیلیئے تھمائے گئے متبادل ہیرو کو منتقل کرنے میں لگی رہتی ہیں،،، ایسا متبادل ہیرو اس سوگ کو زیادہ نہیں جھیل پاتا اور جلدہی اپنی تابڑ توڑ ناقدری کے بعد اپنے وجودسے بے نیاز ہوکر حلیئے میں ایک بےلگام توند اور سر پہ فحش سا گنج ابھارے پھرتا نظر آتا ہے۔۔۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود جیسے تیسے کرکے بیچاری کتاب ہمارے ارد گرد اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے اور اکثر اپنی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔۔۔ مضمون کے شروع میں میں نے بتایاتھا کہ شپینٹوزا نے کہیں کہا تھا کہ " کتاب ایک بہت فائدے کی چیزہے، اسنے تو میری حالت ہی بدل دی ہے"۔۔۔ ،،، کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ شپینٹوزا کون ہے ،، یہ ایک کباڑیہ ہےشپین گل جو رنچھوڑ لائن میں پرانی کتب کا ٹھیلا لگاتا ہے۔۔۔ اور کباڑے میں پرانی کتب دس روپے کلو کے حساب سے خریدتا ہے۔۔۔ میں نے اسکے نام کو غیرملکی روپ دیا تو آپنے اسکے کہے کو اقوال زریں جیسا گردانا اور اسے دانشور بھی مان لیا ، ورنہ بھلا آپ اس قول کو نری بکواس کے سوا اور کیا گردانتے۔۔۔
لیکن آخر میں یہ کہتا چلوں کہ ۔۔۔ ان سب باتوں کے باوجود کتاب ایک متحرک معاشرے کی زندگی ہے، اسکے ورق ورق میں مستور اک پیغام بندگی ہے، مت پوچھو کتاب میں کیا ہے ، یہ پوچھو کتاب میں کیا نہیں ہے۔۔۔ کیونکہ اس میں بہت کچھ ہے بلکہ شاید سبھی کچھ ہے لہٰذہ کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔۔ سننا شرط ہے کتاب کلام کرتی ہے ، شرف انساں کو سلام کرتی ہے ، کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔۔۔ کتاب چیختی ہے، سسکتی ہے کراہتی ہے، گاہے ہنستی ہے، مسکراتی ہے گدگداتی ہے، کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔ کتاب قد نہیں مرتبہ بڑھاتی ہے، وحشت مآبوں کو انساں بناتی ہے ... اچھے ڈھنگ سے جینا سکھاتی ہے، کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔ کتاب جاگتی ہے جگاتی ہے، کھلی آنکھوں سپنے دکھاتی ہے،،،انگلی پکڑ کر نئی دنیاؤں میں لیجاتی ہے، کئی ان دیکھے سفروں پہ ساتھ جاتی ہے ،کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔۔ کتاب کرن ہے اجالا ہے روشنیوں کو گوندھ کر نئے سورج چڑھاتی ہے، کتاب چنگاری ہے، شعلہ ہے بھڑک کےلاؤ بنکر گرمی بڑھاتی ہے،،کتاب ہی زندگی ہے۔

شہر شہر کی خبریں

شب قدرمیں پاکستان کیلئےخصوصی دعائیں کی جائیں،سعدیہ راشد

کراچی ( نمائندہ رنگ  نو )ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے

... مزید پڑھیے

الخدمت کے تحت آغوش ہوم کراچی کے بچوں کیلئے دعوت افطار کا اہتمام

کراچی ( نمائندہ رنگ نو )الخدمت کراچی کے تحت گلشن معمار میں قائم اقامتی

... مزید پڑھیے

کورونا وباکے شد ید وار جاری ، 119 افراد جاں بحق

اسلام آباد( ویب ڈیسک ) کوروناوبا کے باعث مزید 119 افراد جاں بحق ہوگئے جس

... مزید پڑھیے

تعلیم

کورونا کی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی ادارے 23 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ (تعلیم)

اسلام آباد(تعلیم  ڈیسک)نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے

... مزید پڑھیے

جامعہ کراچی:بی اے، بی کام پرائیویٹ امتحانی فارم کی تاریخ میں توسیع (تعلیم)

کراچی(تعلیم ڈیسک)بی اے اور بی کام پرائیوٹ کے امتحانی فارم جمع کرانے کی

... مزید پڑھیے

سکھر: 11ویںجماعت کے انرولمنٹ فارم جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع (تعلیم)

سکھر(تعلیم ڈیسک)ثانوی و اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ سکھر کے سیکریٹری کی جانب

... مزید پڑھیے

کھیل

بھارت میں کورونا کے باعث آئی پی ایل ملتوی کردیا گیا

بنگلور(اسپورٹس ڈیسک)بھارت میں کورونا کی صورت حال کے باعث آئی پی ایل

... مزید پڑھیے

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 7 مئی سے ہوگا

ہرارے(اسپورٹس ڈیسک)پاکستان اور زمبابوے کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان سیریز کا

... مزید پڑھیے

پاکستان بیس بال ٹیم نے ایشین گیمز 2022 کے لئے کوالیفائی کرلیا

لاہور (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان بیس بال ٹیم نے انیسویں ایشین گیمز 2022 کے

... مزید پڑھیے

تجارت

پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس 959 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، اسٹیٹ بینک

اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)رواں مالی سال کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ

... مزید پڑھیے

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 12 اشیائے خورو نوش مہنگی

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) ملک میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 12 اشیائے خورو

... مزید پڑھیے

برآمدات سے کہیں زیادہ سیاحت کے ذریعے پیسا کما سکتے ہیں،وزیر اعظم

مری ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم صرف سیاحت

... مزید پڑھیے

دنیا بھرسے

بل گیٹس اور ملنڈا گیٹس کے درمیان طلاق دنیا کی مہنگی ترین طلاق

واشنگٹن (ویب ڈیسک):مائیکروسافٹ کے بانی اور دنیا کے چوتھے امیر ترین شخص بل

... مزید پڑھیے

مقبوضہ وادی کشمیر میں سخت پابندیاں بدستور نافذہیں

سرینگر(ویب ڈیسک) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں

... مزید پڑھیے

افغان صدر کا طالبان سے جنگ ختم کرنے، اقتدار میں شامل ہونے کا مطالبہ

کابل(ویب ڈیسک )افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو جنگ کا خاتمہ کرنے پر اقتدار

... مزید پڑھیے

فن و فنکار

فواد خان کی اہلیہ صدف اور بچوں کے ہمراہ پہلی مرتبہ تصویر شیئر

لاہور (شوبز ڈیسک)پاکستان سمیت بھارت میں بھی یکساں مقبول اداکار فواد خان کی

... مزید پڑھیے

کسی کی مدد کر کے تصاویرسوشل میڈیا پر جاری نہیں کرنی چاہئیں‘عینی طاہرہ

لاہور (شوبزڈیسک)نامور گلوکارہ عینی طاہرہ نے کہا ہے کہ نیکی کے کاموں کی تشہیر

... مزید پڑھیے

معاشرے میں لڑکیوں کی کامیابیوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے ،مریم نور

اسلام آباد(شوبز ڈیسک )داکارہ مریم نور نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی

... مزید پڑھیے

دسترخوان

اسپائسی فش اسٹکس

قرة العین
اجزا
مچھلی کے فلے۔۔ 500 گرام

... مزید پڑھیے

کوفتہ ہرا مصالہ پلاﺅ

انتخاب:امِ سعد

:اجزاءکوفتہ کیلئے

... مزید پڑھیے

بلاگ

آکسیجن سے پہلے آکسیجن (بلاک)

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

کرونا ایک انکشاف سے بڑھ کر ایک چیلنج بنا، اور ہوتے ہوتے اب یہ سر پر لٹکتی جان لیوا تلوار

... مزید پڑھیے

کتاب ہی زندگی ہے۔۔۔ (بلاک)

سید عارف مصطفی

پاکستان میں کتب بینی کو کار ثواب سمجھا جاتا ہے اسی لیئے وطن عزیز میں پرہیز گاروں اور

... مزید پڑھیے

ماہ رمضان اور پکوڑے (بلاک)

حمیراحیدر

رمضان کا مقد س مہنہ جاری ہے ۔ ایسے میں لوگ جہاں رمضان میں روزے رکھ رہے ہیں اور

... مزید پڑھیے