شعروادب

سعدیہ ظفر

مرحبا جذبہ دل تیرا اثر دیکھ لیا

آج بے پردہ انہیں ایک نظر دیکھ لیا

رخ روشن پہ چمکتے ہوئے کالے گیسو

ایک جا سوئے ہوئے شام وسحر دیکھ لیا

اک نظربھر کے تری دید کی حسرت بھی رہی

ہم نے دیکھا جو ادھر اس نے ادھر دیکھ لیا

ہم نہ کہتے تھے محبت نہ کسی سے کرنا

خوب ہے آپ نے خود اس کا اثر دیکھ لیا

سعدیہ خیر نے ایک ترے ارمانوں کی

برق نے آج تیرا قبل وجگر دیکھ لیا