
اسلام آباد( ویب ڈیسک،فوٹو:فائل )صدر مملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے
ملک کا دفاع ناگزیر بنایا ہے، کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمیں اپنے ملک کا دفاع کیسے کرنا ہے۔ ہماری افواج کو دنیا میں کسی بھی دوسری افواج کے مقابلے میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا وسیع اور کامیاب تجربہ حاصل ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا اور تنازعات پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس کے ذریعے پھیلتی جعلی اور جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کو قابو کرنا ہمارا اصل چیلنج ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس سے خطاب میں صدر مملکت نے مزید کہا کہ آج اس تقریب سے خطاب میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ اتفاق یہ ہے کہ یہ کانفرنس بھی ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے کہ جب بمشول پاکستان دنیا کو مختلف سطح پر مختلف تصادم اور تنازعات کا سامنا ہے۔تاہم ان تنازعات اور تصادم کی صورت حال کو حل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور اس کے اسباب اور سدباب کو سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس قوم کا المیہ ہے کہ یہ غلطیاں تو کرتی ہے، مگر اس سے سیکھتی نہیں۔ بعض مواقع پر انسان کا مزاج تصادم کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ انھوں نے میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس زمانے میں میڈیا تجزیہ کار اور پلر کا دُہرا کردار ادا کررہا ہے۔آج کے زمانے میں سوشل میڈیا کی اہمیت زیادہ بڑھ گئی ہے،ایک ایسے موقع پر جہاں الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا موجود ہے، وہاں سوشل میڈیا تک رسائی آسان ہے۔
جعلی اور جھوٹی خبروں پر بات کرتے ہوئے صدرمملکت کا کہنا تھا کہ جعلی اور جھوٹی خبریں اکثر سوشل میڈیا سے پھیلتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی مثال ایک ایسے چائے خانے جیسی ہے، جہاں لوگ آتے ہیں، چائے پیتے ہیں، باتیں بناتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جعلی اور جھوٹی خبروں کا زور بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس تیزی سے جعلی اور جھوٹی خبریں پھیل رہی ہیں، آنے والے دنوں میں اسے قابو کرنا مشکل ہوگا۔ اپنے خطاب کے اختتام میں سیکیورٹی اداروں کو خراج تحیسن پیش کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ ہماری افواج کو دنیا میں کسی بھی دوسری افواج کے مقابلے میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا وسیع اور کامیاب تجربہ حاصل ہے، ہماری افواج کو پتہ ہے کہ ملک کا دفاع کیسے ناقابل تسخیر بنایا جاتا ہے، کسی کو ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں کہ دفاع کیسے کرنا ہے، ہمیں اپنا دفاع اچھی طرح کرنا آتا ہے۔














