1988میں زمانہ طالب علمی میں قلم قبیلے کا حصہ بنے۔بچوں کی کہانیوں سے لکھنے کا آغازکیا ۔1997میں میٹرک کے بعد صحافت کے پیشے سے بطور سب ایڈیٹرمنسلک ہوئے۔2000سے 2012 تک روزنامہ جسارت کراچی میں بطور ڈسٹرکٹ نیوز ایڈیٹر ذمہ داریاں انجام دیں ۔مختلف نیوز چینلزمیں بھی کام کا تجربہ حاصل کیا۔آپ جامعہ اردوسے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز ہیں ۔کرنٹ افیئر ،بچے اورمعاشرہ آپ کے تحروں کا مرکزومحور ہیں ۔قلم کو اصلاح اورخدمت کیلئے استعمال کرناان کامقصد حیات ہے۔شاعری سے بھی گہرا شغف رکھتے ہیں ۔آپ اچھے کمپیئر بھی ہیں۔آج بھی ایک قومی سطح کے اخبار سے بطورسینئرسینئرسب ایڈیٹر منسلک ہیں ۔آپ رائٹرزفورم پاکستان کے صدر ہیںاورتقریباًتمام ہی اردو اخبار ات میں کالم کاری کرچکے ہیں،آپ کے سیکڑوں کالم ،مضامین ،فیچرزاوررپورٹس اخبارات وآن لائن ویب سائٹس کی زینت بن چکے ہیں

 

احسان کوہاٹی المعروف سیلانی معروف قلم کار ہیں۔لکھنےکے لیے بلاشبہ قلم و قرطاس ہی کا سہارا لیتے ہوں گے مگر ان کی تحریر پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ سیاہی نہیں بلکہ اپنے خونِ جگر میں ڈبو کر فگار انگلیوں سے لکھ رہے ہیں۔۔سچے جذبوں اور احساس کی فراوانی صرف سیلانی ہی کے قلم میں ملے گی۔گزشتہ دو دھائی سے روزنامہ امت کراچی میں سیلانی دیکھتا چلا گیا کہ عنوان سے لکھ رہے ہیں ۔آج کل ایک نجی ٹی ؤی چینلز میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔

 

 

 

کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی فہیم زیدی زمانہ طالب علمی سے لکھنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔  معاشرے کے چبھتے ہوئے موضوعات کو دامن قرطاس پر بکھیرنے کے ہنر سے بہ خوبی آشنا ہیں۔ کئی برس کراچی کے مختلف اخبارات  سے وابستہ رہے۔اب ایک دہائی سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ جدہ سے شائع ہونے والے اخبار’اردو نیوز‘ میں ان کے کالمز، مضامین اور اسپیشل رپورٹس اکثروبیشتر شائع ہوتی ہیں۔روزنامہ جنگ ،جسارت،اخبارجہاں سمیت کراچی سے شائع ہونے والے متعدد اخبارات وجرائد بھی فہیم زیدی کی تحریروں سے مزین ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر بھی ان کے بلاگز اور مضامین شائع ہو تے ہیں ۔۔ !!!

 

 

 

 طوبیٰ جہانگیرزبیری جامعہ کراچی سےگریجویٹ ہیں،آپ درس وتدریس کےشعبے سے وابستہ ہیں،آپ کئی سال سےمضمون نگاری سےمنسلک ہیں،آپ کئی مقابلوں میں نمایاں پوزیشنزحاصل کرچکی ہیں۔مطالعہ اورکتب بینی سےخاص شغف رکھتی ہیں۔

 

 

 

سینئر صحافی سید عتیق الحسن،سڈنی(آسٹریلیا) سے نکلنے والے انگریزی اخبار ’’ٹریبیون انٹرنیشنل‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔پاکستان کے بڑے اردو جرائد اور اخبارات کے علاوہ کئی دیگر ممالک کے پرنٹ میڈیا میں بھی ان کی تحریریں اور کالمز شائع ہوتے ہیں ۔ایک کتاب" شناخت کے قیدی" لکھ چکے ہیں۔ حیدرآباد(سندھ) سے تعلق رکھنے والے سیدعتیق الحسن آسٹریلیا میں پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی  کے لئے گراں  قدرخدمات انجام دے رہے ہیں اور آسٹریلوی حلقوں میں پاکستان کی مثبت تصویر اور بیانیہ کو پروان چڑھارہے ہیں۔

 

 

 

 

 

    سینئر صحافی غلام مصطفیٰ سید گزشتہ دو دہائیوں سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ملک کے بڑے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے ان کا تعلق رہا ہے اور اس وقت بھی ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ ہیں۔ آپ ملکی و بین الاقوامی حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور مختلف اخبارات وجرائد میں آپ کے مضامین،ریسرچ فیچرز،تجزیئے اور تحریریں شائع ہوچکی ہیں۔   

 

 

    

’’عالمی یوم سماعت‘‘ کے حوالے سے خصوصی مضمون

غلام مصطفےٰ سید

عالمی یوم سماعت ہرسال تین مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو عالمی سطح پر منانے کا مقصد دنیا بھر میں یہ آگہی اور شعور اجاگر کرنا ہے کہ بہرے پن اورقوت سماعت میں کمی سے کس طرح بچاجاسکتا ہے،نیزسننے کی صلاحیت کو کس طرح محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کیسے کی جاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت( ڈبلیو ایچ او) جنیوا سوئٹزرلینڈ میں واقع اپنے صدر دفتر میں ہرسال عالمی یوم سماعت کے حوالے سےسیمینار منعقد کرتا ہے۔حالیہ برسوں کے دوران عالمی یوم سماعت منانے والے ممالک اورمعاون ایجنسیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ رکن ممالک اس دن کی مناسبت سے اپنے ہاں مختلف سرگرمیوں اور تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت تمام شراکت داروں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس عالمی کاوش میں شامل ہوں۔

 

ہرسال کی طرح رواں سال بھی تین مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں سماعت کا دن منایا جارہا ہے۔عالمی یوم سماعت  2019 کے موقع پر ڈبلیو ایچ او سمعی نقصان یعنی سننے کی صلاحیت میں کمی کی ابتدائی مرحلے میں ہی نشاندہی اور اس کے تدارک کی اہمیت پرمتوجہ کرے گا۔

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ جانے بغیر کہ ان کی سننے کی صلاحیت کم ہورہی ہے، سمعی نقصان کے ساتھ جی رہے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس حقیقت سے لاعلم رہتے ہیں کہ وہ بہت سے مخصوص الفاظ اور آوازیں سن نہیں پاتے۔ کسی کی سننے کی صلاحیت کو جانچنا اس مسئلے سے نمٹنے میں سب سے پہلا قدم  ثابت ہوسکتا ہے۔عالمی یوم سماعت کے بنیادی مقاصد اور پیغامات درج ذیل ہیں:

تمام افراد کو وقتاً فوقتاً اپنی سماعت کو چیک کرتے رہنا چاہئے،خاص طورپر ان لوگوں کو اس کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے جنہیں قوت  سماعت میں کمی کا خطرہ زیادہ ہے، جیسے کہ پچاس سال سے زائد عمر والے لوگ،یاایسے افراد جو زیادہ شور والے ماحول میں کام کرتے ہیں،یا وہ لوگ جو طویل مدت تک تیز آواز میں موسیقی سنتے رہے ہوں، اوروہ لوگ جنہیں کانوں کے مسائل درپیش ہیں۔ تمام ممالک کے طبی نظام میں سماعت سے محرومی کی ابتدائی مرحلےمیں ہی نشاندہی اور علاج کی سہولتیں دستیاب بنائی جائیں۔ 3مارچ 2019 کو عالمی یوم سماعت کے موقع پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ایک موبائل ایپ جاری کررہی ہے جس سے لوگ اپنی سماعت کی صلاحیت جانچ سکیں گے۔ قوت سماعت کی اہمیت سے متعلق شعور میں اضافہ کرنا،لوگوں کو اس بات کی ترغیب دینا کہ وہ اپنی قوت سماعت باقاعدگی سے چیک کریں اور محفوظ سماعت کی عادت اپنائیں،

ہیلتھ ورکرز کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ اپنے علاقوں میں لوگوں کی قوت سماعت کو جانچیں۔

اگر ہم پاکستان میں اس حوالے سے جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ویسے تو ہمارے ملک میں سرکاری سطح پر صحت کی سہولتوں کا فقدان عمومی طور پر ہرجگہ پایا جاتا ہے،تاہم جسمانی صحت کی طرح ہمارے لوگوں کی سمعی صحت(سننے کی قابلیت) کی حالت بھی اچھی نہیں ہے اور حکومت و اداروں کے ساتھ ساتھ خود عوام  کی بھی فوری توجہ کا تقاضہ کرتی ہے۔سمعی صحت کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں 45سال سے زائد عمر کے80فیصد افراد کانوں کے مسائل سےدوچار ہیں اوروہ کم سنتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کا پہلو یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت کو اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں ہے کہ انہیں کم سنائی دیتا ہے۔وہ بتدریج بہرے پن کی طرف جارہے ہوتےہیں اورابتدا میں ہی تشخیص نہ ہونے کے سبب ان کی سماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔اس کا نتیجہ جزوی یا پھرمکمل طور پر سماعت سے محرومی یعنی بہرے پن کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

پاکستان میں ہرشعبے کی طرح سمعی صحت کے شعبے میں بھی کچھ درمند اصحاب ایسے ہیں جواس ملک کے اس انتہائی اہم مگرمحسوس نہ کئے جانے والے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اپنے علم وہنراور صلاحیتوں کو بروئے کار لارہے ہیں ۔ آڈیالوجسٹ (ماہرسماعت) شاہد اختر راجپوت ایسے ہی لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنی اہلیہ کے ساتھ سماعت کے مسائل کا شکار افراد کی خدمت کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔

شاہد اخترراجپوت اور ان کی اہلیہ نے کراچی یونیورسٹی سے آڈیالوجی میں ماسٹرز ڈگری لینے کے بعد ڈاؤ یونیورسٹی اور برٹش کونسل کے تعاون سے برطانیہ میں بہرے یا کم سننے والے افراد کی بحالی سماعت،بالخصوص  دماغ میں آلہ سماعت کی پیوند کاری(کوکلیئرٹرانسپلانٹ) کی ایڈوانس ٹریننگ حاصل کی۔

بعدازاں انہوں نے پاکستان آکر تاج ویلفیئر ٹرسٹ کے نام سے ایک این جی او بنائی اورمشنری جذبے کے ساتھ سمعی صحت کے شعبے میں رفاہی بنیادوں پر کام کا آغاز کیا ۔ ان کی یہ غیرسرکاری تنظیم ملک کے تین صوبوں میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد  کی سماعت کا معائنہ اور ہزاروں افراد کو سماعت کےآلے (ہیئرنگ ایڈ) مفت فراہم  کرچکی ہے۔ یہ لوگ اس میدان میں انتھک کام کررہے ہیں اورسماعت سے محرومی کے مسئلےپر لوگوں کا شعور اجاگر کررہےہیں۔ انہوں نے کراچی اور دیگر شہروں میں مختلف اداروں اور صنعتوں میں جاکر ان کے ملازمین کی سماعت کا معائنہ کیا ہے۔ یہ پاک فضائیہ کے جوانوں،ٹیکنیشنز اور افسران، پاکستان ایئرفورس کے اسپیشل اسکولوں ،ایئرپورٹ سیکورٹی فورس، سی ایم ایچ،کراچی پورٹ ٹرسٹ اورکراچی یونیورسٹی کے علاوہ میڈیا کے اداروں اورمختلف ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ کمپنیوں میں جاکر ان کے ملازمین  اور اسٹاف کی سماعت کی جانچ  کرچکے ہیں۔

آڈیا لوجسٹ شاہداختر نے اس حوالے سے جو تفصیلات بتائیں وہ ہمارے معاشرے کے ایک تشویش ناک پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پینتالیس سال سے زائد عمر کے 80فیصد سے زائد افراد،خصوصاً مردوں کی قوت سماعت میں خرابی موجود ہے۔اس میں زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ چاہے وہ کسی کارخانے میں کام کرنے والا مزدور ہو،سڑک پر ٹریفک کنٹرول کرنے والا اہلکار ہو،گاڑی،رکشہ ٹیکسی چلانے والا ڈرائیور ہو،وکیل ہو یا صحافی،حتیٰ کہ ہمارے جج حضرات کی سماعت بھی کمزور ہے۔ستم ظریقی یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ  اس بات سے بے خبر ہیں  اور یہ ماننے پر تیار ہی نہیں کہ وہ اونچا سنتے ہیں۔

شاہداختر نے کہا کہ سماعت سے محرومی،بینائی سے محرومی کی طرح بلکہ بعض معاملات میں اس سے بھی زیادہ سنگین اور زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ آنکھوں سے محروم شخص کسی دوسرے بینا شخص کی مدد سے آمدورفت اور سڑک پارکرتا ہے،یا پھر وہ سفید چھڑی استعمال کرتا ہے جسے دیکھ کر گاڑیاں رک جاتی ہیں۔لیکن سماعت سے محروم شخص کے معاملے میں ایسا نہیں ۔ اگروہ کسی بھیڑ یامجمع میں موجود ہو تو لوگ اسے اپنے جیسا ہی نارمل سمجھتےہیں۔ایسے میں اگر کوئی ہنگامی صورتحال ہو،یااسےکسی خطرے سے خبردار کیا جائے تو وہ چونکہ سن نہیں پاتا اس لئے حادثے کا شکار ہوسکتا ہے،اگروہ سڑک عبور کررہا ہو توڈرائیور اسے ہارن بجاکر خبردار کرتا ہے اور اسے ایک نارمل شخص سمجھ کر گاڑی کی رفتار کم نہیں کرتا،نتیجتاً وہ بدنصیب حادثے کا شکار ہوجاتاہے۔

شاہداخترراجپوت نے بتایاکہ پاکستان چونکہ ایک غریب ملک ہے،لوگوں کی آمدن کم ہے اس لئے سماعت کی کمزوری یا بہرے پن کا شکاربچوں کے والدین،نیز بالغ افراد بھی اس کا علاج کروانے سے قاصر رہتےہیں۔ آلہ سماعت کی قیمت پانچ ہزار سے پانچ لاکھ روپے تک ہے۔جبکہ سماعت کیلئے دماغ میں نصب ہونے والا آلہ’’کوکلیئرامپلانٹ ڈیوائس‘‘18لاکھ سے 25لاکھ روپے میں ملتاہے۔ یہ یقیناً بہت زیادہ قیمت ہے جو ہمارےعوام کی اکثریت کی قوت خرید سے باہر ہے۔

شاہداختر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سرکاری سطح پر اسپتالوں میں کوالیفائیڈ آڈیالوجسٹس کی دستیابی نہ ہونے کے برابرہے۔کراچی میں صرف ڈاؤہاسپٹل،عباسی شہید ہاسپٹل اور ضیاالدین ہاسپٹل میں ہی کوالیفائیڈ آڈیالوجسٹس موجود ہیں۔یوں توملک میں ہزاروں افراد اس شعبے میں کام کررہے ہیں لیکن کوالیفائیڈ آڈیالوجسٹس کی تعداد محض 300 کے لگ بھگ ہے،جبکہ صرف کراچی میں ہی کم ازکم پانچ ہزار آڈیالوجسٹس کی ضرورت ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت اس اہم معاملے کی جانب توجہ بھی نہیں دے رہی ہے۔اسپتالوں  میں آڈیا لوجسٹ کی پوسٹ کیلئے ایم بی ایس ایس اور ای این ٹی اسپیشلسٹ ہونا لازمی شرط بنادیا گیا ہے جو مضحکہ خیزاورافسوس ناک ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسپتالوں میں آڈیالوجسٹ کی اسامی پُر نہیں ہوپاتی۔ ہونا یہ چاہئے کہ حکومت اس پوسٹ کیلئے یونیورسٹی سے آڈیالوجی میں گریجویشن کوبنیادی قابلیت قراردے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں لوگوں کوسماعت کے مسائل کا بروقت اور سستاعلاج فراہم کرنے کیلئے آڈیالوجسٹس کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ اس کے لئے ملک کی تمام جامعات میں آڈیالوجی کی فیکلٹیز قائم کی جائیں اور طلبہ کو اسکالرشپس دے کر آڈیالوجسٹ بنایا جائے۔

یاسمین صدیقی نے گزشتہ چند برس قبل لکھنے کا آغاز کیا،جامعہ اردوسے گریجویٹ ہیں ۔آپ علم وادب سے گہراشغف رکھتی ہیں ۔آپ نےرنگ نو کے لیے باقاعد گی سے لکھنے کااہتمام کیا ہے ۔

 

 

 

 

ایم آرملک           

ایم آرملک معروف کالم نگار ہیں ،آپ ملکی وعالمی حالات حاضرہ پر گہری نطر رکھتے ہیں اور اس پر بہترین تجزیہ کاری کا بھی ہنر رکھتے ہیں ،آپ نے رنگ  نوڈاٹ کام کے لیے مستقل کالم لکھنے کا آغاز کیا ہے ۔

 آپ معروف شاعراوربراڈ کاسٹرہیں ،آپ صحافی بھی ہیں،صحافتی تحریک کے روح رواں بھی،قلم کاہنئر خوب جانتے ہیں، کئی شعری مجموعوں کے خالق  ہیں ۔آپ نے رنگ نو کی خصوصی درخواست پر بلاک تحریر کیا ہے۔

 

ٓآپ نام ورادیب دانشوراور شاعر ہیں ،کسی تعارف کے محتاج نہیں،آپ کی تحریریں اورکلام کمال فن کی معرا ج پرہیں۔  

 

محمد طارق خان انسانی حقوق کی تنظیم ہیو من رائٹس نیٹ ورک کے جوائنٹ سیکریٹری ہیں ،آپ بہت سی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور قلم کو لوگوں کی فلاح کیلئے استعمال کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں ۔

 

تعلیم

وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کیلئے ڈریس کوڈ لاگو، جینز پہننے پر پابندی (تعلیم)

اسلام آباد(تعلیم ڈیسک) وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لیے ڈریس کوڈ لاگو کر دئیے گئےجس کےتحت جینز پہننے پر پابندی

... مزید پڑھیے

کرونا وائرس، وفاق، پنجاب اور کے پی کے تعلیمی اداروں 11 ستمبر تعطیلات (تعلیم)

اسلام آباد(تعلیم ڈیسک) کرونا کی پھیلتی چوتھی لہر کے سبب وفاق، پنجاب اور کے پی کے بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں 6

... مزید پڑھیے

جامعہ کراچی:ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں داخلے کے شیڈول کا اعلان (تعلیم)

کراچی (تعلیم ڈیسک)رجسٹرارجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید کے مطابق جامعہ کراچی سے الحاق شدہ کالجز میں ایسوسی ایٹ ڈگری

... مزید پڑھیے

بلاگ

قومی امن وسکون (بلاک)

عائشہ مشیر

 بہت سے قصّےجو بچپن سے اپنے بزرگوں سےسن رکھےتھے وہ اکثر ذہن کےپردے پر گردش کرتے۔۔۔۔ سرحدوں پر موجود

... مزید پڑھیے

میں کس کے ہاتھ پر" غیرت "کا لہو تلاش کروں؟ (اسماء معظم )

اسماء معظم

(نورمقدم  قتل کیس کے پس منظر میں لکھی تحریر)

... مزید پڑھیے

پوسٹ مارٹم کیا ہے؟ (بلاک)

رنگ نو ڈیسک

لاطینی زبان میں لفظ mortem ”موت“ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اصطلاحی معنوں میں موت کی وجوہات جاننے کے لیۓ

... مزید پڑھیے