شعروادب

گر فاصلہ ہے میلوں کا

اور زادراہ بھی پاس نہیں

دل ساتھ دھڑکتے ہیں اپنے

ہم ایک جسم کی مانند ہیں

نہ بھول سکے ہم تم کو

تم یاد ہمیں ہر لمحہ ہو

تم زخم جسم پر سہتے ہو

تو درد ہمارے ہوتا ہے

تم بھوکے ہو اور پیا سے ہو

اپنوں کو تم نے کھویا ہے

دیکھ اور سن کے دکھ تمہارے

دل خون کے آ نسو روتا ہے

اے اہل فلسطین غم نہ کر

جنگ جو یہ جاری ہے 

آ زمائش یہ ہماری ہے

اور جنت کی راہ تمہاری ہے

 

لبنیٰ صدف

داستان فلسطین رقم ہوگئی

دل سےنکلی صدا بھی بلند ہوگئی

تیری اک اک ادا پرمیں قربان ہوں

میری آنکھیں وہ منظربھلا نہ سکیں

وہ ظلمت کی شب تھی یا کرب وبلا

وہ عزمت کی راہ تھی یا رنج والم

داستانِ فلسطین رقم ہوگئی

دل سے نکلی صدا بھی بلند ہوگئی

محبت کا حق تو ادا ہوگیا

صرف دعویٰ کیا اور وفا ہوگیا

آج امت کا اپنی  یہ حال ہوگیا

آواز حق کی اٹھانا گناہ ہوگیا

شرمساری کا عالم فنا ہوگیا

خون ناحق بہانا بھی عام ہوگیا

داستانِ فلسطین رقم ہوگئی

دل سے نکلی صدا بھی بلند ہوگئی

صعوبتوں سے پناہ ملےاب

عزیمتوں کا شعور لے کر

سروں پہ اپنے کفن چڑھا کر

نکل پڑیں  گے جہاد کرنے

سفر بھی ایسا حسین ہوگا

جو ساتھ رب رحیم ہوگا

داستانِ فلسطین رقم ہوگئی

دل سے نکلی صدا بھی بلند ہوگئی

 

عریشہ اقبال