ایمان زاہد بھٹی / کراچی

یہ جہاں نہ ہو تو بہتر ہے

دنیا ہی نہ ہو تو بہتر ہے
ہر شخص کا چہرہ دھوکا ہے
ہر سانس سلگتا درد کہے
ہر یاد زخم بن جاتی ہے
یہ ستم گری کا عالم ہے
دنیا ہی نہ ہو تو بہتر ہے
وہ بندھن ٹوٹ ہی جاتا ہے
کوئی دل سے اتر جب جاتا ہے
ہر چہرہ جھوٹا لگتا ہے
ہر آنکھ میں کھوٹ سا لگتا ہے
دنیا ہی نہ ہو تو بہتر ہے
ہر ایک مسافر ہے ایمان
پر منزل سب کی اپنی ہے
کوئی چلتے چلتے بھٹک گیا
کوئی تھکتے تھکتے چلتا رہا
جو تھکن کی لذت پاتا رہے
اور رب سے ناتا جوڑے رہے
وہی تو دل سے کہتا ہے
یہ جہاں نہ ہو تو بہتر ہے
دنیا ہی نہ ہو تو بہتر ہے

 

ایمان زاہد بھٹی