ام عبداللہ

 زمیں پر لہو بہتا ہے

ریگزارِ غزہ

بچوں کی چیخوں میں

ماں کی سسکیاں دفن ہیں

اور دیواروں پر

خون سے لکھی ہے

ایک قوم کی داستانِ اذیت

اسرائیل ،اسرائیل کے ہتھیار

امریکہ کے ضمیر سے جُڑے ہیں

جن پر انسانیت کی لاشیں

جھنڈے کی مانند لہرا رہی ہیں۔

اور

مسلم دنیا؟

خاموش

اپنے محلات میں

آرام دہ دعاؤں کے سائے میں

بغیر کرب محسوس کیے

تجارت کی تسبیح پھیرتے ہیں۔

مگر

اسی گہری تاریکی میں

ایک صدا ابھرتی ہے

اے دنیا

 کون بولے گا؟

کون روکے گا

یہ خوں آشام رات؟

کیا باقی ہے فقط دعاؤں کا سہارا؟

مگر

کہیں سے

کوئی صدا اٹھی ہے

سحر کی پہلی کرن کی مانند

ایک چمک

یہ پاکستان ہے!

ابھی فتح کی خوشبو

فضا میں تازہ ہے

ابھی لہراتا پرچم

دلوں میں روشنی ہے

یہ اشارہ ہے

کہ اُمید ابھی زندہ ہے

کہ کوئی ہے جو

ظلم کی آنکھ میں آنکھ ڈالے گا

جو مسجدِ اقصیٰ کی دہلیز پر

پھر سے اذان کے گونجنے کا خواب

آنکھوں میں سجا کر

آگے بڑھے گا

اے ارضِ وطن!

تیری گونجتی ہوئی آواز

بنے روشنی ان اندھیری راہوں میں

تو فقط سرحدوں کا محافظ نہیں

تو اُمت کی آخری امید ہے

لہٰذا

اٹھ!

وقت ہے

کہ دنیا کو بتایا جائے

خاموشی جرم ہے

اور کلمہ گو

ظلم پر

خاموش نہیں رہا کرتے

 

ام عبداللہ