ماہ نور شاہد

 ہیں فقط اشکِ ندامت  غمازی کے لیے

غم عصیاں کے لیے خام خیالی کے لیے

 

ہے یہ نامہ میرا کورا سوالی کے لیے

اور زخمی ہے میری روح جنابی کے لیے

 

فقط کوشاں رہی دنیا کی جوابی کے لیے

آج نادم ہوں میری عجز زبانی کے لیے

  

جیسےلازم ہے وضو ہر ایک نمازی کے لیے

نورٓ لازم  بعجز  عاصی  جازی  کے  لیے

 

 

ماہ نورشاہد

Page 1 of 5