عائشہ فہم۔

 ہم رب عظیم کو بھول گئے

اپنے ہی دین کو بھول گئے

نہ جانے کیا کیا سنتیں تھیں

ہمیں تو کچھ یاد ہی نہی

پر خود کو مسلمان کہتے ہیں

روزہ ہے خشوع وخضوع نہیں

زکوٰۃ ہے پر ایثار نہیں

حج ہے ہم سب ایک نہیں

پر خود کو مسلمان کہتے ہیں

اتحاد بھی کچھ ہوتا ہے؟

بس انتشار ہے یاد ہمیں!

خلوص بھی کچھ ہوتا ؟

کیوں آج حسد ہے یاد ہمیں؟

پر خود کو مسلماں کہتے ہیں

پیار نام کی کوئی چیز نہیں

اب ہم کو ملن بھی عزیز نہیں

جھوٹ و بخل کے پکے ہیں ہم

جانے کس راہ پر نکلے ہیں ہم

پر خود کو مسلماں کہتے ہیں

وہ جو شہید کیے گئے

اتنا ہی تو جرم تھا بس

دعوت حق کے داعی تھے

پر ہم خاموش اور بے حس ہیں

پر خود کو مسلمان کہتے ہیں

نہ جانے کب وہ دن آئے گا؟

جب ہم سے انقلاب آئے گا ؟

پیار اور خلوص بھرا ہوگا

پھر ہم بھی فخر سے کہہ دیں گے

ہم خود کو مسلماں کہتے ہیں

ہاں خود کو مسلمان کہتے ہیں

 

عائشہ فہیم