فاطمہ فیض / گوجرہ

سردی

 

ہمارا موسم ہے ٹھنڈا ٹھنڈا

مزاج تھوڑا ہے گرم انڈہ

اخروٹ تھوڑے ہیں بھئی سیانے

خریدتے ہیں ہم کچھ ہی دانے

موزے پہنیں یا پہنیں دستانے

سردی ان کو بھی کچھ نہ مانے

کیا طبیعت کا ہم سنائیں

گھر سے باہر ہرگز نہ جائیں

ٹھنڈ سورج کو بھی لگی ہے

 تبھی تودھوپ ہلکی نکلی ہے

قسم خدا کی ٹھہر ٹھہر جائیں

سردی میں جب وضو بنائیں

اس سے بھی ہم نہ گبھرائیں

اجر اس کا  الگ سے پائیں

یہ بھی تو آزمائش کڑی ہے

نماز منافق پہ بھاری ہے

سردی گرمی تم نہ دیکھو

اس کی رضا کو آگے رکھو

یہ بھی  رب کی اک عطا ہے

 سردی میں بھی لطف بڑا ہے

خشک میوے جو ہم  کھائیں

شکر خدا کا کرتے جائیں

سردی کی سوغاتیں اچھی

گاجر حلوہ،مولی سجی

جب بھی تم کوئی نعمت کھاؤ

کس نے بنائی بھول نہ جاؤ

گرمی کاہے آم بادشاہ

سردی میں کینو مہاراجہ

جو بھی موسم آتا جائے

شان خدا کی دکھاتا جائے

لحاف اوڑھے یہ نظم لکھی ہے

ٹھنڈ ہاتھوں کو لگ رہی ہے

تم بھی نیکی کماتے جاؤ

ایک کپ چائے پلاتے جاؤ

 

فاطمہ فیض / گوجرہ