میمونہ زاہد / گوجرہ

تم جیت گئے اے اہلِ غزہ

تم جیت گئے اے اہل غزہ

اور ہم سے ہوئی تاخیر بہت

تم لے گئے بازی ایماں کی

ہم کرتے رہے تدبیر بہت

تم کٹ کٹ کر گرتے ہی رہے

ہم اپنے آپ میں مگن رہے

ہم ساتھ تمھارا دے نہ سکے

ہم سے ہو گئی تقصیر بہت

تیرے بچے بھوکے رہتے ہیں

جب رورو کر وہ کہتے ہیں

ہم اللہ کو بتلائیں گے

دل ہوتا ہے غمگین بہت

جب غیرت ان کو دلائی گئی

اور کہانی غزہ کی سنائی گئی

کہتے ہیں امن کے رکھوالے

یہ مسئلہ ہے گھمبیر بہت،

جو راہِ خدا میں نکلے گا

اور غزہ کے لئے تڑپے گا

وہ راضی رب کی مرضی پر

اچھی اس کی تقدیر بہت

مانا کہ کچھ ان کے پاس نہیں

پھر بھی رب سے بے آس نہیں

ہو جائے گی کافی ان کے لئے

وہ ایماں کی شمشیر بہت،

یہ دشمن ہیں سب اقصیٰ کے

اور دشمن ہیں سب نبیوں کے

اللہ کی نظر میں یہ ٹھہرے

رسوا بھی اور حقیر بہت

 

میمونہ زاہد /گوجرہ

Page 1 of 4