میمونہ زاہد / گوجرہ

 آنکھوں کا جو ہے نور وہ حسین ابن علی ہے

دل کا جو ہے سرور وہ حسین ابن علی ہے

 

نانا کا دیں بچانے کو نکلا ہے وہ جانباز

چہرہ جو ہے پرنور وہ حسین ابن علی ہے

 

عزم  و وفا  کا پیکر  ہے اماں  کا  لاڈلا

بابا کے دل کا نور وہ حسین ابن علی ہے

 

کربلا میں جس طرح سے وہ لڑتا رہا جواں

اسلام کا غرور  وہ  حسین  ابن  علی  ہے

 

تنہا ہی لڑ رہا تھا شجاعت تو دیکھئے

اسلام کا منصور وہ حسین ابن علی  ہے

 

نیزے پہ سر رکھا ہے علی کے جوان  کا

جو پھر بھی ہے مسرور وہ حسین ابن علی ہے

 

میمونہ زاہد