تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں
تیری رحمت کے سہارے نے خطا کار کیا
تو نے تو حکم دیا تھا کہ اطاعت کر لو
ورغلایا ہمیں شیطاں نے گناہگار کیا
تیری رحمت ہوئی مجھ پر اور ہوتی ہی گئی
تیری ہر نعمت نے مجھ کو شرمسار کیا
تو تو کہتا ہے کہ جاں دو جنت کے بدلے
ہم نے خود ہی خود کو جہنم کا خریدار کیا
میری کشتی تو کنارے پہ لگ جاتی لیکن
میرے عملوں نے ساحل کو منجدھار کیا
کہا ابلیس نے تیرے بندوں کو امیدیں دوں گا
ہم نے اس سے ہی گناہوں کا بیوپار کیا
یہ وہ رب ہے جس نے عزت سے بنایا ہے ہمیں
ہم نے خود کو ہی رسوا سر بازار کیا
تیرے بندوں نے تو تیری نافرمانی کی ہے
سب سے بڑھ کر تو نے انہی سے پیار کیا
جو اٹھا تیرے دیں کو بچانے کے لئے
اس نے گویا تجھ سے محبت کا اظہار کیا
ہم چلے چھوڑ کے تجھ کو دشمن کے پیچھے
تیری نظروں میں خود کو ہی خطاکار کیا
ہم نے کچھ ایسے عمل کر لئے جس سے یہ لگا
جیسے خود کو ہی جہنم کے لئے تیار کیا
پھر جو رحمت ہوئی تیری تیرے ہی بندوں پر
یوں لگا پیار سے تو نے انہیں اس پار کیا
میمونہ زاہد














