ہم اہل ایماں ہیں

ہم اہل ایماں ہیں

کہنے کو مسلماں ہیں

ہم ان کو دیکھتے ہیں

تو دل نہیں لرزتے

ان کی چیخوں سے

آنسو نہیں ٹپکتے

ہم اپنی موج میں ہیں

ہم مستئ جہاں ہیں

کہنے کو مسلماں ہیں

وہ مائیں بھی ہماری

وہ بہنیں بھی ہماری

وہ بچے بھی ہمارے

ہمارے ہی وہ جواں ہیں

کہنے کو مسلماں ہیں

اک دین کا ہے رشتہ

اک درد کا ہے ناطہ

ہم کیوں نہیں تڑپتے

یہ کون سا ایماں ہے

کہنے کو مسلماں ہیں

وہ جتنا ان کا قبلہ

اتنا ہی ہے ہمارا

ہم کیوں نہیں سمجھتے

یہ کیسا امتحاں ہے

کہنے کو مسلماں ہیں

ان کی پکار پر بھی

ہم بہرے ہو گئے ہیں

سب کچھ نظر ہے آتا

پر اندھے ہو گئے ہیں

رحمان دیکھتا ہے

دیکھ رہا جہاں ہے

کہنے کو مسلماں ہیں

دیکھا ہے ان جلتے

بچوں کے لاشے اڑتے

نہ یہ زمیں پھٹی ہے

رویا نہ آسماں ہے

کہنے کو مسلماں ہیں

پیغمبر نے تو کہا تھا

مومن ہیں بھائی بھائی

ہم بیٹھ کر تو سوچیں

غیرت کہاں گنوائی

اک بار آ کے دیکھیں

اے عمر آپ کہاں ہیں؟

 کہنے کو مسلماں ہیں

 

 

میمونہ زاہد  / گوجرہ