اے حوا کی بیٹی سنبھل کر تو چلنا
یہ دنیا ہے دھوکا کبھی نہ بھٹکنا
سر راہ تم کو دکھائیں گے منزل
لگائیں گے بولی
سجائیں گے محفل
خوابوں کی ڈوری تھما کر وہ تم کو
تماشا سر راہ بنائیں گے بیٹی
کبھی نہ تم رکنا
کبھی نہ پلٹنا
بچا کر رکھنا تم اپنا یہ دامن
یہ عزت حیا اور اپنا یہ آنچل
سنواے پیاری حوا کی بیٹی
ہو تم آبگینے تم ہی ہو وہ موتی
جنہیں خدا اور رسول خدا نے
حیا دار سیپی میں محفوظ کیا ہے
اے حوا کی بیٹی سنبھل کر تو چلنا
یہ دنیا ہے دھوکا کبھی نہ بھٹکنا
انیقہ صلاح الدین














