کسی لفظ سے میں کیا کہوں
کسی حرف سے میں کیا لکھوں
اسی ساتھ کو میں بیاں کروں
اسی راہ گزر سے میں جا ملوں
جس راہ پہ جب ہم تھے ملے
جس عہد سے ہم تھے بندھے
وہ راہ نہیں دعا تھی وہ
اور نیکیوں کا صلہ تھی وہ
جو نیکیوں کا صلہ بنی
وہ قبولیت کا عکس تھی
اور صداقتوں کا ثبوت تھی
صداقت کا رشتہ
رفاقت کا حصہ
یوں ہی ملتا نہیں ہے
بہت خوبصورت یہ راہیں ملی ہیں
بہت بیش قیمت یہ یادیں جڑی ہیں
سنمبھل کے چلنا اے دوست تم بھی
نہ لڑکھڑانا اے دوست تم بھی
ہے پانا ہم کو ہمارا مقصد
ہے جانا ہم کو بھی بن کے عابد
کٹھن سفر میں جو روشنی ہے
وہی تو رب کی بندگی ہے
یہی تو رب کی بندگی ہے
کہ تم دعاؤں سے رشتہ جوڑو
اور اب گناہوں سے منہ کو موڑو
جو تم گناہوں سے باز ہوگے
تو تم اس تجارت کے قابل بنو گے
جس تجارت سے جنت کے تالے کھلیں گے
اور دل پہ لگے ہر زنگ ہٹیں گے
جب دل پہ لگے ہر زنگ ہٹیں گے
تب رب سے راضی ہم تم رہیں گے
کسی لفظ سے میں کیا کہوں
کسی حرف سے میں کیا لکھوں
عریشہ اقبال














