
فاطمہ فیض / گوجرہ
انسانی تاریخ جنگوں، تنازعات اور دشمنیوں سے بھری پڑی ہےلیکن تہذیب یافتہ دنیا نے ہمیشہ کچھ اصولوں اور ضوابط کی پاسداری کی ہے۔ جنگ کے بھی کچھ اخلاق ہوتے ہیں
اور قیدیوں کے بھی کچھ حقوق لیکن حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے حوالے سے جو قانون سازی کی گئی ہے—یعنی فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا بل—اس نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں بلکہ انسانیت کا سر بھی شرم سے جھکا دیا ہے۔
یہ محض ایک قانون نہیں بلکہ ایک منظم قتلِ عام کا اجازت نامہ ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ لوگ جو اپنی زمین اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، انہیں قید کرنے کے بعد بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے؟تاریخ گواہ ہے کہ دشمن ممالک بھی قیدیوں کا تبادلہ کرتے ہیں تاکہ انسانی جانیں بچائی جا سکیں لیکن اسرائیل نے ان تمام عالمی ضوابط کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسا "جاہلانہ" قانون پاس کیا ہے جو دورِ جہالت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ قیدیوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کسی قانونی نظام کا حصہ نہیں بلکہ ایک خالص "ظالمانہ انتقام" ہے۔
اسرائیل صرف اس نئے قانون تک محدود نہیں بلکہ اس کی جیلیں پہلے ہی فلسطینیوں کے لیے جہنم کا نمونہ بنی ہوئی ہیں۔ وہاں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے۔
قیدیوں کو گھنٹوں الٹا لٹکانا، ہڈیوں کا توڑنا اور برقی جھٹکے دینا امعمول بن چکا ہے۔سینکڑوں فلسطینی قیدی کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں، لیکن انہیں علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے وہ تڑپ تڑپ کر جیلوں میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ انسانی حقوق کا راگ الاپنے والی بڑی طاقتیں اس سنگین معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، اگر یہی کام دنیا کا کوئی دوسرا ملک کرتا تو اب تک اس پر پابندیاں لگ چکی ہوتیں، لیکن اسرائیل کو "لائسنس ٹو کِل" (قتل کا پروانہ) دے دیا گیا ہے۔
"ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے"
اسرائیل کے یہ ظالمانہ طریقے اور فلسطینی قیدیوں کو قتل کرنے کا قانون اس کے اپنے زوال کی داستان لکھ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم پر حد سے زیادہ ظلم ہوا، اس کی چیخوں نے تخت و تاج ہلا دیے۔ فلسطینی قیدیوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔اس نازک صورتحال میں، جہاں انسانی حقوق کے عالمی دعویدار خاموش ہیں، عالمِ اسلام بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب جیسے بااثر ممالک کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ جب مائیں تڑپ رہی ہوں اور قیدیوں کو ذبح کرنے کے قوانین بن رہے ہوں، تو محض مذمتی بیانات کافی نہیں ہوتے۔
فلسطینیوں کے خلاف یہ جاہلانہ بل نہ صرف فلسطینی عوام پر حملہ ہے بلکہ یہ ہر اس انسان پر حملہ ہے جو انصاف اور انسانی حقوق پر یقین رکھتا ہے۔ دنیا کو جاگنا ہوگا اس سے پہلے کہ انسانیت کے تمام اصول اسرائیل کی ان تاریک جیلوں میں دفن ہو جائیں۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، کیونکہ خاموشی بھی ظالم کی حمایت کے برابر ہے۔




































