
عائشہ بی
بارش رات بھر برستی رہی۔ لگاتار بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔ ہر جگہ پانی ہی پانی۔۔۔خیمے کی کمزور چھت سے ٹپکتی بوندیں امّی کے
چہرے پر گر رہی تھیں مگر وہ جاگ نہیں رہیں تھیں ، شاید تھکن نیند پر غالب آ گئی تھی، یانیند ہی اب واحد پناہ تھی۔
علی نے خیمے کے کونے میں جمع ہوتے پانی کو دیکھا۔ مریم سردی سے ٹھٹھر رہی تھی۔ مٹی اور بارش کا ملا جلا رنگ، جیسے غزہ کے زخم بہہ کر اس کے سامنے آ گئے ہوں۔ اس نے پلاسٹک کی ٹوٹی ہوئی بالٹی اٹھائی اور پانی باہر پھینکنے لگا مگر پانی کم ہونے کے بجائے اور بڑھتا جا رہا تھا۔
میرے “ابّا کہتے تھے بارش رحمت ہوتی ہے۔۔”
علی نے خود سے سرگوشی کی اور مسکرا دیا۔
“ابّا بھی کیا سادہ تھے۔”
پانی خیمے میں داخل ہو چکا تھا۔ چھوٹی بہن سارا کے پاؤں ٹھنڈ سے نیلے پڑنے لگے، امّی نے آنکھ کھولی، سارا کو گود میں لیا اور آسمان کی طرف دیکھا، جیسے کسی سے سوال کر رہی ہوںمگر جواب مانگنے کی ہمت نہ ہو۔
دور کہیں بمباری کے بعد کی خاموشی تھی، اور قریب پانی کی آواز۔
غزہ آج گولیوں سے نہیں، بارش سے بھی زخمی تھا۔ پر اللہ کے سوا ہمارے کوئی مددگار نہیں تھا۔۔۔یہ تمام تکلیفیں ہمارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لئے آزمائش ہے۔۔۔۔اللہ پاک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمانوں کے لئے کیا درد محسوس کر رہا ہے۔۔۔؟
علی نے خیمے کے باہر کھڑے ہو کر آسمان کو دیکھا۔ بادل اب ہلکے ہو رہے تھے۔ بارش رکنے والی تھی، مگر پانی نہیں رکے گا—وہ جانتا تھا۔
اس نے مٹی میں ڈوبے ہوئے اپنے پاؤں محسوس کیے اور سوچا۔۔۔
“اگر ہم زندہ رہے، تو شاید یہ پانی گواہی دے گاکہ ہم یہاں تھے۔” میرا اللہ ہی ہے سب کچھ جاننے والا ہے
بارش تو ہلکی ہوگئی مگر رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی مگر غزہ اب بھی پانی میں ڈوبا ہوا تھااور علی کی آنکھوں سے بھی لگاتار پانی بارش کی مانند بہہ رہا تھا اور دعاؤں کے سوا کوئی آسرا نہیں رہا۔۔۔ آخر کار بھوک سے تڑپتے ہوئے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی "اے میرے پاک پروردگار ہمارے مددفرما،آمین ثم آمین یا رب العالمین




































