
عائشہ بی
دنیا بھرمیں طاقتور قوتیں اورعالمی ادارے بار بار"دوریاستی حل" کو فلسطین کےمسئلےکا واحد حل قراردیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ
نعرہ دراصل ایک بڑا فریب ہے جس کےذریعےصہیونی ریاست کو قانونی جواز دینے اورفلسطینی عوام کی جدوجہد کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فلسطین کی اصل حقیقت اور بنیاد یہ ہےکہ یہ انبیاء علیہم السلام کی سرزمین ہے،اس پرصرف اورصرف فلسطینی مسلمانوں کا حق ہے، جسے طاقت اور جبر کے ذریعے صیہونی ریاست بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ "دو ریاستی حل" کے نام پر فلسطین کے بیشتر حصے پر اسرائیل کو مستقل قبضہ دینے اور باقی چھوٹے سے ٹکڑے پر برائے نام فلسطینی ریاست بنانے کا ایجنڈا سراسرظلم اور نا انصافی پر مبنی ہے۔۔
یہ منصوبہ فلسطینی عوام کوآگ اور خون میں نہلانے ،ماہ وسال، اہل فلسطین کی جان، مال و املاک کی قربانیوں اور ہزاروں مردوں ،عورتوں ،بچوں اوربوڑھوں کی شہادتوں پر مبنی سالہا سال سے جاری جدوجہد کو بزور قوت ختم کرنے کاشیطانی منصوبہ ہے۔ غزہ جیساشہرجس کی پہچان مسجد اقصی بیت المقدس، قبۃ الصخرۃ جیسے مقدس مقامات ہیں، مسلمانوں کےقبلہ اول والے علاقے کو اسرائیلی دارالحکومت کےطورپرتسلیم کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے، یہ ناجائز شیطانی منصوبہ کبھی پورا نہیں ہوگا.... ان شاءاللہ
تاریخ شاہد ہے، دنیا گواہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ مقدس مقامات کےتحفظ وبقااوردین وایمان اورامت مسلمہ کے وقار کا معاملہ ہے۔ فلسطین کا دو ریاستی حل دراصل صہیونی قبضے کو دائمی بنانے کا حربہ ہے۔ اس صورتحال میں وقت کا تقاضاہے کہ پوری امتِ مسلمہ یعنی مسلم ممالک کے حکمرانوں کواس معاملے پر سنجیدگی اور سختی سے دوٹوک انداز میں ایک ہی ریاست یعنی آزاد فلسطین کے قیام کی بات کرنے کی اشد ضرورت ہے، کہ فلسطین مسلمانوں کا علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کو حکومت قائم کرنے کا حق حاصل ہو اور وہاں غیر مسلموں مثلاً عیسائیوں اور یہودیوں کو اسلامی قوانین کے مطابق جائز حقوق اور انصاف کے ساتھ رہنے کی اجازت ہوگی مگر اسرائیل جیسی غاصب اور ناجائز ریاست کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول کو ہمیشہ کےلیے سلامت رکھے۔ " ان شاء اللہ





































