
افروز عنایت
ابو مجھے نیا موبائل چاہیے
ٹھیک ہے بیٹا کل تمہیں نیا موبائل مل جائے گا ۔ـ
نہیں مجھے ابھی اور اسی وقت چاہیے ۔ــ
یار ابھی رات کے بارہ بجے ہیں، موبائل کی دکان اس وقت بند ہو گئی ہوگی۔ ــ
شوکت کی بیوی رضیہ نے بیٹے کی فرمائش پوری کرنے کے لئے کہا کہ دکاندار آپ کا دوست ہے، آپ اس کو فون کریں گے تو وہ آجائے گا۔ ــ
اس طرح رات کے بارہ بجے بیٹے کی فرمائش پوری کرنے کے لئے شوکت نے دکان کھلوا کر بیٹے کی فرمائش پوری کی بلکہ فخر سے اگلے دن اپنے دوستوں کو بھی بتایا کہ میں نے کس طرح بیٹے کی آدھی رات کو فرمائش پوری کی۔ ـ
شوکت اور اس کی بیوی اپنے اکلوتے بیٹے کے ناز نخرے اٹھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے تھے، اس بے جا لاڈ پیار نے اسے ضدی اور بد تمیز کردیا تھا ـــ۔
فی زمانہ۔ میں اپنے چاروں طرف ایک چیز نوٹ کر رہی ہوں ،یقیناً آپ بھی میری بات سے متفق ہوں گے کہ والدین یا تو بچوں کے حد سے زیادہ لاڈ و پیار اٹھاتے ہیں یا کچھ والدین بچوں کو قابو میں رکھنے کے لئے بے جا سختی کرتے ہیں ۔دیکھا جائے تو یہ دونوں طریقے بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ،جن بچوں سے والدین بے جا لاڈ و پیار کرتے ہیں ان کی کسی غلط بات پر بھی نہیں روکتے بلکہ کہتے ہیں کہ ابھی تو یہ بچہ ہے خود ہی بڑا ہوکر سمجھ جائے گا، انتہائی غلط سوچ ہے۔
ایسے حد سے زیادہ لاڈ پیار کرنے سے۔ بچے ہمیشہ اپنی من مانی کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں ،دوسروں کی مرضی اور خواہش کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے بر عکس بچوں پر سختی اور ہر معاملے میں اپنی مرضی مسلط کرنے سے بھی بچے بظاہر والدین کے ڈر و خوف کی وجہ سے اس وقت تو وہ حکم ماننے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن اندرونی طور پر ان کے اور والدین کے درمیان فاصلے بڑھتے جاتے ہیں ۔ نہ صرف وہ اپنے والدین کی صحبت میں رہنے سے کترانے لگتے ہیں بلکہ ان کی کسی بات کو اہمیت بھی نہیں دیتے کہ یہ سب تو ا ن کی عادت ہے، ہمیشہ یہی کہتے رہتے ہیں ،اس کے برعکس والدین کی توجہ ،محبت ، مناسب وقت پر ا ن کو مثبت طریقے سے نصیحت کرنا ان کے حق میں بہتر ثابت ہو سکتا ہے ، والدین کی طرف سے اچھے کام کرنے پر ا ن کی تعریف کرنے سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ،یقیناً یہ چیز انہیں کامیابی کی طرف بھی لے جائے گی۔
ــــ
اسی طرح ان کی غلطیوں کی مناسب وقت اور مناسب طریقے سے نشان دہی کرنا چاہیے لیکن دوسروں کے سامنے ان کی غلطیوں کو اچھالنا نہیں چاہئے کہ انہیں اپنی بے عزتی محسوس ہو ـ والدین کے اس قسم کے رویے سے بچے ضدی اور چڑچڑے ،خود سر اور غصیلے ہو جاتے ہیں اور احساس کمتری کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ،جس کے اثرات کسی نہ کسی صورت میں تمام زندگی قائم رہتے ہیں بلکہ ان کے دل میں والدین کے لئے وہ احترام اور عزت بھی نہیں رہتا جس کے والدین مستحق ہیں۔ ــاس لئے والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ اعتدال اور توازن کا برتاؤ روا رکھنا چاہیے تاکہ ان کی تمام زندگی خوش گوار ہوسکے ــ۔




































