
اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدگی کو خطرناک قراردیتے
ہوئے کہا ہے کہ امریکا اوردیگر ممالک جوہری صلاحیت کےحامل پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اوول آفس میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال انتہائی خراب ہے اور یہ انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تمام تر صورتحال کو روکنا ہو گا،کئی لوگ مارے جا چکے ہیں، ہم اسے ہر حال میں روکنا چاہتے ہیں اور اس عمل میں پوری طرح شریک ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ انہوں نےکشیدگی کوکم کرنےکے لیے فوری طور پرپاکستان اور بھارت سے رابطہ کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم دونوں ممالک سے بات کر رہے ہیں، کئی لوگ ان سے بات کر رہے ہیں، یہ انتہائی پیچیدہ توازن کی صورتحال ہے کیونکہ جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کافی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
امریکی صدرنےبھارت کو یقین دلایا کہ امریکا ان کے احساسات کو سمجھتا ہے،بھارت نےحملے میں تقریباً 50 لوگوں
پلوامہ حملے پر بھارت سے تعزیت کرنے کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں حالیہ دنوں میں آنے والی بہتری کا ذکر بھی کیا۔
انہوں نےکہا کہ ہم نے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کی ادائیگی روک دی ہےجو ہم ان کو دیا کرتے تھے، اس دوران ہم پاکستان کےساتھ چند ملاقاتوں کا اہتمام کرسکتےہیں۔
البتہ امریکی صدر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ملاقاتیں کس سطح کی ہوں گی اور ان کی نوعیت کیا ہوگی یا ان کا انعقاد کس وقت کیا جائےگا۔۔
امریکی صدر نے پاکستان کی امداد روکنے کے فیصلے کی ایک مرتبہ پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دیگر امریکی صدور کی موجودگی میں امریکا کا بہت فائدہ اٹھایا، ہم پاکستان کو سالانہ 1.3ارب ڈالر دے رہے تھے، میں نے وہ امداد بند کر دی کیونکہ پاکستان ہماری اس طرح مدد نہیں کر رہا تھا جس طرح اسے کرنی چاہیے تھی۔














