بلوچستان ترقی کرے گا توپاکستان کی ترقی ہوگی

کوئٹہ (ویب ڈیسک ،فوٹو: فائل )وزیر اعظم عمران خان نے دورہ بلوچستان کے دوران کوئٹہ-ژوب روڈ اور امراض قلب کے ادارے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

اپنے دورہ بلوچستان کے دوران وزیر اعظم عمران خان کوئٹہ پہنچے، جہاں گورنر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے گورنر،وزیر اعلیٰ بلوچستان اور اہم وفاقی وزرا کے ہمراہ کوئٹہ کینٹ پہنچے، جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی ایوی ایشن بیس پر ان کا استقبال کیا۔

بعد ازاں وزیر اعظم نے کوئٹہ-ژوب ڈبل کیرج وے روڈ اور کارڈیک سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا، اس دوران بلوچستان کی صوبائی قیادت اور آرمی چیف بھی موجود تھے۔اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان خوش قسمت ہے کہ انہیں ایسا وزیر اعلیٰ ملا، پاکستان میں تبدیلی کی سوچ ہے اور پرانے طریقوں سے چلنے والا پاکستان آگے نہیں جاسکتا۔انہوں نے کہا ہم اپنے پرانے قرضوں پر صرف سود 6 ارب روپے دے رہے ہیں، ملک جس طرح چل رہا تھا وہ تبادہی کی طرف جارہا تھا۔ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملکوں کو کس طرح مقروض کیا جاتا اس کتاب میں بتایا گیا ہے، جس طرح اشرافیہ کو خریدا جاتا اسے کرپٹ کیا جاتااور ملک کا پیسا باہر لے جاتا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریاست کا کام عوام کو تحفظ، تعلیم، پانی، صحت، روزگار فراہم کرنا ہے اور یہ ہر شہری کے بنیادی حقوق ہے جبکہ بلوچستان کا ایک خصوصی معاملہ ہے کیونکہ یہاں سیاست صرف انتخابات جیتنے کے لیے ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سابق وزرا اعظم نے 5 سال کے دوران بلوچستان سے زیادہ لندن کے دورے کیے کیونکہ یہ اقتدار میں آنے کے لیے بلوچستان کی ضرورت نہیں ہوتی، یہاں صرف انتخابات کا سوچا جاتا لوگوں سے اتحاد کرلیا جاتا اور جو رقم عوام کو ملنی تھی وہ انہیں ملا ہی نہیں۔

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں لوگ 2 چیزوں سے زیادہ مرتے ہیں، ایک امراض قلب اور دوسرا کینسر، بلوچستان میں کوئی امراض قلب کا ادارہ نہیں تھا اور لوگوں کو کراچی جانا پڑتا تھا لیکن میں آرمی چیف کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یو اے ای سے رابطے کے ذریعے اس ادارے کے لیے فنڈنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا ہونا بہت ضروری تھا، اس کے لیے پاک فوج اور صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اس منصوبے سے یہ میڈیکل سٹی بن جائے گا اور ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم فوج اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ایک کینسر کا ادارہ قائم کریں۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ 305 کلو میٹر کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا، یہ کوئٹہ سے ژوب 305 کلو میٹر ہے، یہ منصوبہ یہ ایک گیم چینجر ہے یہ بلوچستان کو نہ صرف پورے پاکستان سے ملائے گا بلکہ تمام پسماندہ علاقوں کو بھی جوڑے   گا، ہمیں مغربی روٹ کو پہلے بنانا چاہیے تھا کیونکہ چین کے لیے سی پیک کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کا مغربی حصہ پیچھے رہ گیا تھا لہٰذا ہمیں بھی  کوشش کرنی چاہیے تھی کہ مغربی روٹ کو پہلے بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ساتھ بڑی تبدیلیاں آئیں گی، اس کے علاوہ ہم منصوبہ کر رہیں ہیں کہ کوئٹہ سے تافتان ایران تک ایک ریلوے ٹریک بنے اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اس سلسلے میں بات کر رہے ہیں۔

کوئٹہ کے ماسٹر پلان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام شہروں کے ماسٹر پلان نہیں ہے، جب تک ماسٹر پلان نہیں ہوگا شہریوں کو سہولیات فراہم نہیں ہوسکیں گی۔

اپنی بات چیت جاری رکھتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اقلیت رہ جائیں گے، اس کا سب سے بڑا حل یہ ہے کہ یہاں تربیتی ادارے ہوں اور مقامی لوگوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جاسکے۔بلوچستان کی ترقی کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ یہاں ایک مضبوط بلدیاتی حکومتی نظام لانا ہوگا، اس کے لیے پنجاب اور پختونخوا کی طرز کا بلدیاتی نظام لانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اگلے الیکشن جیتنے کے لیے نہیں آئی، بلوچستان ترقی کرے گا تو پاکستان کی ترقی ہوگی اور یہ آگے بڑھے گا۔ علاوہ ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان آج کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے پاک فوج اور بلوچستان حکومت کے اشتراک سے بنائے جانے والے میگا پروجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا جن میں اسٹیٹ آف دی آرٹ کارڈیک سینٹر اور کوئٹہ-ژوب روڈ ( این-50) موٹروے شامل ہیں۔

اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے جبکہ وفاقی اور صوبائی وزرا، سول و عسکری حکام کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ پاک فوج نے بلوچستان حکومت کے اشتراک سے خوشحال بلوچستان پروگرام کے تحت کوئٹہ میں اسٹیٹ آف آرٹ بلوچستان ہیلتھ کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ یو اے ای پاکستان اسسٹنس پروگرام (یو پی اے پی) کے تحت مقامی آبادی کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں جو متحدہ عرب امارات کے تعاون سے بنایا جارہا ہے۔کارڈیک ہسپتال جدید طبی سہولیات سے لیس ہوگا، جس میں آپریشن تھیٹر، ایکو اور نیوکلیر کارڈیو کی سہولیات بھی میسر ہوں گی۔