
اسلام آباد ( ویب ڈیسک،فوٹوفائل ) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہڑتالوں سے ڈر کر
پیچھے ہٹ جاؤں گا تو وہ سمجھ لے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، پیچھے ہٹنے کا مطلب ملک سے غداری ہوگی۔ ملک میں ٹیکس کا موجودہ نظام غیر منصفانہ ہے۔
گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تقریبِ تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ جہاں ہم آج ہیں آگے ایسے نہیں چل سکتے، لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں،لوگ سمجھتے ہیں کہ ایف بی آر ایسا ادارہ ہے جس میں پیسے چوری ہوتے ہیں، ایف بی آر میں 700 ارب روپے کی چوری ہوتی تھی،جسے روکنے کے لیے ایف بی آر میں اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے سب کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آنا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 22کروڑ افراد میں سے 15 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں، شبر زیدی نے بتایا کہ پاکستان کا 70 فیصد ٹیکس 300 کمپنیاں دے رہی ہیں،سروس سیکٹر ایک فیصد ٹیکس دیتا ہے۔انھوں نے اگلے سال کے لیے پوری قوت سے 5500 ارب ریونیو اکٹھا کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ ٹیکس نظام درست ہو تو قرضے بھی اتریں گے اور ترقیاتی کام بھی ہوں گے ۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تاجروں کی شٹر ڈاؤن ہڑتال سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہڑتالوں سے پیچھے ہٹ جاؤں گا تو وہ سمجھ لے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، برائے مہربانی سمجھ لیں میرا پیچھے ہٹنے کا مطلب ملک سے غداری ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگلے سال کیلئے ساڑھے 5 ہزار ارب روپے اکٹھے کرنے ہیں، صنعت کاروں کے تمام مسئلے حل کریں گے،انھوں نے کہا کہ 60 کی دہائی میں حکومت نے صنعتکاروں کی مدد کی تو پاکستان خطے میں آگے آیا تھا۔ملک میں ٹیکس کے موجودہ نظام کو غیر منصفانہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ ٹیکس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ جیسے پہلے ہوتا رہا ویسے ہی چلتا رہے تو ایسا نہیں ہوسکتا، ہم نے سب کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے کیوں کہ 22کروڑ لوگوں میں صرف 15 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، اگر ہم تھوڑا تھوڑا بھی ٹیکس دیں تو قومی خزانے میں اتنا پیسہ آجائے گا کہ قرض کی دلدل سے نکل جائیں گے
۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم تاجروں ،صنعت کاروں کیلئے آسانی پیدا کررہے ہیں، افغانستان سے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے بات چیت چل رہی ہے اور اسمگلنگ روکے بغیر انڈسٹری آگے نہیں بڑھ سکتی، اگر انڈسٹری نہیں چلے گی تو ملک پر جو قرضہ چڑھایا گیا وہ کیسے ادا ہوگا؟
عمران خان نے کہا کہ میں نے ووٹ لینے کیلئے اسلام کی بات نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے اہم اصول میں رحم ، عدل و انصاف اور کمزوروں کی داد رسی شامل تھی لیکن آج اربوں روپے کی چوری کرنے والوں کو جیل میں ائیر کنڈیشن مل رہا ہے اور جو چھوٹی چوری کرتا ہے، سب کو پتا ہے اس کے ساتھ جیل میں کیا سلوک ہوتا ہے۔ زیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے.














