
جنیوا(رنگ نو ڈاٹ کام) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار جھوٹے بھارت کے
منہ پرعالمی برادری نے ایک اورتھپڑرسید کردیا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارت کے مکروہ چہرے سے نقاب نوچتے ہوئے بتایا ہے کہ مودی سرکار میں ملک کی اقلیتی برادریوں خصوصاً مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھے ہیں، خاص طور پر مسلمان اور تاریخی طور پر پسے ہوئے طبقات دلتوں اور قبائلیوں کا استحصال بڑھ رہا ہے۔انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ مشیل باچلے نےجنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں گھٹے ہوئے سیاسی ایجنڈے کی وجہ سے کمزور طبقہ پہلے ہی مشکل میں ہے۔
انہوں نے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ ملک کے اندر ’تقسیم کرنے والی پالیسی‘ سے معاشی مفادات کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر بھی سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ جبکہ 2016 میں بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مذمت کی گئی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ کی میناکشی گانگولی نے کہا کہ مودی حکومت کا رویہ عدم برداشت پر مبنی ہے جس سے ملک میں آزادی اظہار کو دھچکا لگا ہے۔‘














