
کراچی :چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نیب اور دیگر اداروں پر برس پڑے، کہتے ہیں کہ جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات میں آئی ایس آئی کو شامل کرکے
اسے سیاست زدہ کردیا گیا، عدالت نے پہلے میرا نام جے آئی ٹی سے نکالنے کا کہا مگر تحریری حکم سے یہ بات ہی نکال دی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ ہم کسی کو اپنا حق چھیننے نہیں دیں گے، دھمکیوں اور جیل جانے سے نہیں ڈرتے، جیل بھرو تحریک کیلئے تیار ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی 18 ویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، ہم نظریاتی اور جمہوریت پسند جماعت ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی نے نیب پر تنقید کرتے ہوئے سراج درانی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی، بولے کہ اسپیکر پیپلزپارٹی کا نہیں آئینی عہدہ ہے، سندھ اسمبلی پر شرمناک حملہ کیا گیا، آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام کسی پر بھی لگ سکتا ہے، مشرف کے بنائے گئے ادارے نے اسپیکر سندھ اسمبلی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سراج دراج کی گرفتاری کے بعد ثبوت ڈھونڈنے کیلئے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جس میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا، عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنایا گیا، بدتمیزی کی گئی۔ بلاول نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ چیئرمین نیب اپنے لوگوں کا احتساب کریں ورنہ ہم ایکشن لیں گے، نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہئے، نیب کی اصلاحات کا مشن پورا نہ کرنا ہماری بھی ناکامی ہے۔
وہ بولے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرو حکومت کو بچاؤ، وزیرِاعظم کالعدم تنظیموں اور مودی کو کچھ نہیں کہتے، پرانی پی ٹی آئی اب نئی پی ٹی آئی بن گئی ہے، وفاقی وزراء کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں، انہیں فوری طور پر ہٹایا جائے، معیشت کا برا حشر کردیا گیا، عوام کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبو دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مخالفین ترقیاتی منصوبوں میں پیپلزپارٹی کا مقابلہ نہیں کرسکتے، ہم پولیس ریفارمز پر کام کررہے ہیں، این آئی سی وی ڈی، جے پی ایم سی دنیا کے بہترین اسپتالوں میں سے ہیں، یہ سندھ کے پیسوں سے سندھ حکومت نے بنائے۔
پی پی چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کے دوران سوموٹوز کا جواز کیا ہے، کیس سندھ کا، بینک اکاؤنٹس سندھ میں سماعت پنڈی میں ہوتی ہے، پتہ نہیں کیوں پنڈی میں ٹرائل کرانے کا شوق ہے، قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پولیٹیکل انجینئرنگ کیلئے مجھے اس کیس میں گھسیٹا جارہا ہے، چیف جسٹس نے کہا تھا بلاول کا نام جے آئی ٹی سے نکالا جائے، تحریری فیصلے میں یہ جملے نہیں تھے، ہم نظرثانی کیلئے گئے تو جج نے کہا ایساک چھ ہوا ہی نہیں، سپریم کورٹ سے احتراماً درخواست کرتا ہوں
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی 18ویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، ہم نظریاتی اور جمہوریت پسند جماعت ہیں، پی پی کا ہر کارکن 18ویں آئینی ترمیم کے دفاع میں جیل جانے کیلئے تیار ہے، جیل جانے سے نہیں ڈرتے، ہم جیل بھرو تحریک چلانے کیلئے تیار ہیں، 3 بار منتخب وزیراعظم آج کوٹ لکھپت جیل میں ہے، نواز شریف کا سندھ میں علاج کرانا میرے لئے اعزاز ہوگا۔
سابق وزیراعظم کے بیٹے نے وفاق پر الزام لگایا کہ وہ سندھ کی ترقی روکنا چاہتا ہے، صوبے کے حصے کا پانی غیر قانونی طریقے سے روکا جارہا ہے۔
دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پیپلزپارٹی نے بعض اراکین ارکان کو تنبیہ کی، بولے کہ پتہ چلا ہے کئی ارکان اجلاسوں سے غیر حاضر رہتے ہیں، تمام ارکان اجلاس میں شرکت یقینی بنائیں، عوامی مسائل کے حل پر بھرپور توجہ دی جائے، عوام کے مسائل پر کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا۔














