پی ٹی ایم جمہوری آوازہے،ادارے آئینی حدود میں نہیں، بلاول

 لندن( رنگ نو ڈاٹ کام) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد آصف زرداری اور  خاندان وپارٹی

کے دیگر افراد کے خلاف کرپشن کی تحقیقات پر ایک بار پھر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملکی اداروں پر آئین کی پاسداری نہ کرنے کا الزام تھوپتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں اس وقت انسانی اور جمہوری حقوق کا بحران ہے،پارلیمنٹ اپنا مقام کھوچکی ہے۔

 بلاول نے ملکی افواج اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائیاں کرنے والی نام نہاد پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم )کیلئے بھی ہمدردی کا جذبہ ظاہرکیا اور اسے’’جمہوری آواز’’قرار دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے آصف زرداری کے بیٹے کا کہنا تھا کہ آئین ہر شہری کو آزاد اور شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا، یہ سب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے،یہ کہنا بالکل جھوٹ ہوگا کہ ملک کے تمام ادرارے اپنی آئینی حدود میں کام کر رہے ہیں،ایسا نہیں ہو سکتا کہ سپریم کورٹ ڈیم بنائے،اس کا کام انصاف فراہم کرنا ہے۔بلاول نے مزید کہا 

پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیں گئیں،اس کے باوجود پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہمیں ایک صحیح احتساب کے نظام کی ضرورت ہے،جہاں احتساب سب کے لئے ہو، نیب صرف سیاسی جماعتوں کو دباو میں رکھنے کی لیے بنایا گیا، پیپلزپارٹی کے خلاف سازشیں چل رہی ہیں،آئین کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ پی ٹی ایم کی نوجوان قیادت کو امید کی نظر سے دیکھتے ہیں، شورش زدہ علاقوں سے اٹھنے والی جمہوری آوازوں کو بڑھاوا دینا چاہیے نا کہ انہیں دیوار سے لگایا جائے،اگر نیشنل ایکشن پلان پر بروقت عمل درآمد کیا گیا ہوتا تو آج دنیا میں پاکستان کی پوزیشن کچھ اور ہوتی۔

انڈیا کے پاس ہم پر انتہاپسندی کے الزامات لگانے کا جواز نہ ہوتا اور ہمارے پاس دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے انتہاپسندوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا ثبوت بھی موجود ہوتا۔ بلاول نے حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن پر بھی شک ظاہر کیا اور وزیراعظم عمران خان پر الزام لگایا گیا کہ وہ کالعدم تنظیموں کی حمایت سے اقتدار میں آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ حکومت کی اس کاوش پر تھوڑا شک اس لیے ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے جو الیکشن لڑا تھا وہ  کالعدم جماعتوں کے تعاون سے لڑا تھا،اگر وہ(وزیراعظم عمران خان) واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنی جماعت سے ایسے وزیروں کو باہر کرنا ہو گا جو ان جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں۔