مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا حصہ نہیں،بلاول بھٹو

کراچی(ویب ڈیسک )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مولانا فضل

الرحمن کے اسلام آباد دھرنے کا حصہ نہیں ہیں، صرف اخلاقی حمایت کریں گے۔

تھانہ احمد خان میں ایم پی اے ملک اسد سکندر سےان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ ملک موجودہ وزیراعظم اور اسکی کٹھ پتلی حکومت کو مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ انہیں اب گھر جانا پڑےگا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر دور دیکھاہے پہلے بھی ہم سب نے ملکر آمریت، انتہا پسندی و دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔ موجودہ حکومت ملک کے عوام پر جو ظلم ڈھا رہی ہے اور ہمارے صوبہ کا جو معاشی قتل کیا جارہاہے وہ سب کے سامنے ہے، یہ لوگ نت نئے جمہوری طریقے اپنا رہے ہیں اور جمہوریت پر حملے کررہے ہیں جس کا ہم ملکر مقابلہ کر رہے ہیں ۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین بھی موجود تھے۔

 بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف ایک سیاسی جماعت ہے بلکہ یہ ایک خاندان کی طرح ہے۔ پارٹی کے سارے کارکن و امیدواران ایک خاندان کی طرح اور ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان کی تقریر نہیں سنی، لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ ہمارے ملک کا وزیر خارجہ کہتاہے جموں و کشمیر انڈین صوبہ یا ریاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو یاد ہوگا ایک بار سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں نیند میں بھی کشمیر سے متعلق غلطی نہیں کرسکتا‘‘ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جب سے یہ نالائق و نااہل سلیکٹڈ نمائندے آئے ہیں ان سے غلطی پر غلطی ہورہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ  ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں جو اس کٹھ پتلی سلیکٹڈ حکومت نے ہماری معیشت کے ساتھ کیا ہے اور مزید کررہے ہیں شاید یہ ہم برداشت کرلیں لیکن کشمیر کاز پر کوئی پاکستانی کوتاہی برداشت کرنے کےلئے تیار نہیں ۔