
واشنگٹن( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ہفتوں
نہیں بلکہ چند دنوں میں ختم ہونا چاہیے بصورتِ دیگر ایران کے خلاف انتہائی سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے لیے زمینی فوج بھیجنا ضروری نہیں تاہم اس امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کسی بھی وقت ممکن ہے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ایران کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے،انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں “بہت کم کو چھوڑ کر تقریباً پورے ایران کو تباہ کیا جا سکتا ہے”، اس لیے ایران کو فوری طور پر تنازع ختم کرنا ہوگا۔
اس سے قبل اپنے سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نےآبنائے ہرمز کو بند رکھنے پر ایران کو شدید نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ اہم گزرگاہ بحال نہ کی گئی تو ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ملک کے حالات “جہنم” بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے جلد معاہدہ نہ کیا تو امریکا تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے اور ملک بھر میں پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات پر بھی غور کر سکتا ہے,واضح رہے کہ یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی مہلت ختم ہونے کے قریب ہے اور خطے میں کشیدگی تاحال برقرار ہے۔














