تھرپارکرمیں غذائی قلت سےمزید5بچےجاں بحق

تھرپارکر(رنگ نوڈاٹ کام )تھرپارکرمیں غذائی قلت کے سبب اموات کا سلسلہ رک نہیں سکا۔غذائی قلت اوروبائی امراض کےباعث

مزید5بچےزندگی کی بازی ہار گئے ۔

سول اسپتال مٹھی میں زیرعلاج موت کی وادی میں میں جانے والے بچوں میں 3کامصطفیٰ ولد قائم نہڑیو،چھ ماہ کی ارباب زادی بنت ہارون ،سکندرراہموں اوراقبال سمیجوکےنومولود بچے شامل ہیں ۔

تھرپاکر کےاسپتالوں میں علاج کی سہولتوں کافقدان ہے،لوگوں شید مشکلات کا شکار ہیں۔غذائی قلت کی  وجہ سےبچوں کی اموات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں،مگر حکومت سندھ صورتحال پر قابو پانے،غذائی قلت کے خاتمے اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں سنجیدہ نہیں ۔ رواں سال بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 300تک پہنچ گئی ہے۔

دریں اثنا انسانی حقو ق کی تنظیم ہیومن رائٹس نیٹ ورک کراچی چیپٹرکے صدر انتخاب عالم سوری نے کہا کہ تھر میں ہرسال غذائی قلت کے باعث  سیکڑوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ،مگر حکومت سندھ صورتحال کو روکنے سے قاصر ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اختیارات ہوتےہیں،فنڈز ہوتے ہیں،انہیں تھرکے مکینوں کو صحت کی سہولتیں پہنچانی چاہئیں یہ  تھرکے مکینوں کا بنیادی حق ہے۔

انتخاب عالم سوری نے حکومت سے سندھ سے مطالبہ کیا کی وہا ں نیوٹریشن پروگرام شروع کیا جائے اورصحت کی سہولتیں فراہم کرے لوگوں کی زندگیاں بچائی جائیں ۔