پشاور: مدرسے میں دھما کہ،بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق ،110 زخمی

پشاور(ویب ڈیسک ،مانیٹرنگ ڈیسک) دیرکالونی زرگر آباد پشاور میں مدرسے کے اندر دھماکے کے نتیجے میں

بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق جب کہ 110 زخمی ہوگئے ہیں۔

پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگر آباد میں واقع مدرسے کے اندر اس وقت دھماکا ہوا جب بچوں کی بڑی تعداد دینی تعلیم حاصل کررہے تھے کہ دھماکہ ہوگیا جس کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
دھماکے کی وجہ سے مسجد کے ایک طرف کی دیوار گرگئی، چھت سے پلستر اکھڑ گیا، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، منبر کے قریب گڑھا پڑ گیا، شیشوں کی کرچیاں، طلبا کے بستے اور پنسلیں فرش پر بکھر گئیں۔دھماکے کے بعد ہال میں دھواں، چیخ و پکار اور افرا تفری پھیل گئی، بھگڈر مچ گئی اور کئی طلبا زخمی ہوگئے۔
مدرسے میں 10 سے لیکر 35 سال تک کے طالبعلم زیر تعلیم ہیں۔ دھماکے کے وقت طلباءکو درس دینے والے شیخ رحیم اللہ حقانی محفوظ رہے۔ مہتمم مدرسہ عدنان حقانی نے کہا کہ ساڑھے 6 سو طلبا مدرسے میں زیر تعلیم تھے، ٹارگٹ طلباءاور شیخ رحیم اللہ تھے۔ابتدائی طور پر اہل علاقہ نے زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کرنا شروع کیا جب کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے علاوہ امدادی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موقع پر پہنچ گئی۔زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں طبی عملے نے 8 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے جب کہ 110 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 6 بچے بھی شامل ہیں جو مدرسے میں ہی تعلیم حاصل کررہے تھےترجمان ایل آر ایچ کا کہنا ہے کہ 110میں سے 40 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا، زخمیوں میں زیادہ تر برن یونٹ اور ای این ٹی منتقل کیا گیا، زخمیوں میں زیادہ تر کی عمریں 20 سال سے زائد ہے، زخمیوں میں دیگر اضلاع اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے طلبا بھی شامل ہیں۔پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد ایک بیگ میں رکھا گیا تھا، جو ایک شخص رکھ کر گیا تھا۔
اے آئی جی شفقت ملک نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں 5 سے 6کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، جو ٹائم ڈیوائس سے منسلک تھا۔سی سی پی او پشاور کا کہنا تھا کہ ہر پہلو سے واقعے کو دیکھ رہے ہیں، مدرسے میں داخل ہونے والے مشکوک شخص کی تلاش جاری ہے۔ عوام کو بھی اپنی سیکیورٹی کا خیال رکھنا چاہیے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،امن عمل کو سبوتاژ نہیں کرنے دیں گے۔