
واشنگٹن( ویب ڈیسک ) امریکا نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں اپنے قریبی اتحادی ممالک کو 8.6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے
اسلحے کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس فیصلے کو ہنگامی صورتِ حال سے منسلک قرار دیتے ہوئے کانگریس کے باقاعدہ جائزے کی شرط کو نظرانداز کیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاہدے کے تحت جن چار ممالک کو ہتھیار فراہم کیے جائیں گے ان میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قطر کو 4.01 ارب ڈالر مالیت کے میزائل دفاعی نظام اور 992.4 ملین ڈالر کے جدید ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔ کویت کو 2.5 ارب ڈالر کا جنگی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دیا جائے گا، جبکہ اسرائیل کو بھی 992.4 ملین ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے جائیں گے۔ متحدہ عرب امارات کے لیے 147.6 ملین ڈالر مالیت کے اسلحے کی منظوری دی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ کشیدگی اور حالیہ جنگ بندی کے بعد خطے میں صورتحال ابھی بھی غیر مستحکم ہے۔امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔





































