
ماسکو ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) روس کے دارالحکومت ماسکو سے جاری اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 90 منٹ طویل ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بھارتی میڈیا ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کریملن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پیوٹن نے ایران اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا،انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے نہایت تباہ کن اثرات صرف ایران ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
صدر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوگا اور خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ روس نے اس حوالے سے سفارتی کوششوں میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔
دوسری جانب دونوں رہنماؤں کے درمیان 2022 سے جاری روس-یوکرین جنگ پر بھی گفتگو ہوئی۔ روسی حکام کے مطابق صدر پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ ان کی افواج کو میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہے،عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر پیوٹن نے 9 مئی کو ہونے والی تقریبات کے دوران یوکرین کے ساتھ جنگ بندی کی پیشکش بھی کی، جس کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حمایت کی ہے۔
واضح رہے کہ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں فتح کی یاد میں یومِ فتح (روس) کی تقریبات مناتا ہے، تاہم اس سال سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان تقریبات کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔





































