
غزالہ آصف
آج ہر بندہ دوسروں کو گرانے کے چکر میں ہے۔کوئی جھوٹ بول رہا ہے۔کوئی دھوکا دے رہا ہے تو کوئی دوغلا پن دکھا رہا
ہےاور پھر جب زمین ہلتی ہے، زلزلے آتے ہیں ،اللہ اپنی موجودگی کا ایک شاہکار عذاب کی صورت میں دکھاتا ہے تو وہی انسان تڑپ اٹھتا ہے کہ ایسا اس کے ساتھ کیوں؟
جب گناہ ہر طرف عام ہو، جب سچ پر جھوٹ کا پردہ ڈل گیا ہو،خودغرضی کا بازار گرم ہو اور جب انسان ہی انسان کا دشمن بنا پھرتا ہوتب آزمائشیں بھی عام ہو جاتی ہیں یہ سزا نہیں بس ایک دھچکا ہے ایک مہلت ہےاور ایک موقع ہے واپس پلٹ آنے کا!۔
اے ا نسان کس چیز نے تجھے غفلت اور تکبر میں ڈالا ۔خاک سے بنائے جانے پر اتنا غرور کیوںکہ اپنے رب کو ہی بھول بیٹھا۔یاد رکھو عروج و زوال قادر مطلق کےہاتھ میں ہے۔زوال ہو تو ٹوٹ کے مایوس مت ہونا،عروج ملے توسر اٹھا کے مغرور نہ ہونا،مصلحت خداوندی میں جلدی نہ مچاؤکیونکہ ہر کام کاایک وقت مقرر ہے۔فطرت آسان تھی مگر اے انسا ن تو نے ترجیح دی بناوٹ اور منافقت کو۔
تیر ی زندگی کی بےسکونی اور پریشانی کی وجہ یہی ہےکہ تقد یر سے زیادہ چاہتا یےاور وقت سے پہلے چاہتا ہے،کسی کو خوش دیکھ کے اداس ہو جاتا ہے
کسی پہ احسان کر کے اس کے پا؎ؤں میں وفاداری کی زنجیر نہ ڈالو۔نہ دولت اور شہرت کی ہوس میں کسی کو حقیر جانو کہ وقت پلٹتے دیر نہیں لگتی
تیرے پاس ہے ہی کیا،نہ جسم ، نہ صحت، نہ عمر،نہ تیری یہ زندگی سب بنانے والے کی محتاج،مطلب پرست اتنا کہ متبادل ملے تو رستہ، مزاج، سوچ اور رشتے بدل لینا،پڑھ لکھ کے سیکھا بھی تو کیاکہ دوسروں کو گرانا کیسے ہے۔
اے ابن آدم! کتنا بے بس اور نادان ہے تو!۔
اگر دوزخ سے ویسا ہی ڈرتا جیسا کہ فقرو فاقہ سے ڈرتا تو نجات پا جاتا دونوں سےجنت کی ویسی ہی خواہش کرتاجیسی دولت کی خواہش کرتا ہےتو پا لیتا دونوں کواور اگر تنہائی میں اللہ رب العالمین سے بھی ویسا ہی ڈرتا جیسے اس کی مخلوق سے ڈرتا ہے تو دونو ں جہانوں میں سعادت مند ہو جاتا
کہانی بہت سادہ سی ہے،اب بھی وقت ہے سنبھل جانے کاکہ دنیا ہے دھوکے کا گھر، مچھر کا پراور مکڑی کا جالازندگی میں آگے بڑھنا ہے تو اصلاح کا دروازہ کھلا رکھنا ہے۔
جئیں اور جینے دیں۔۔۔
عاجزی ، تقویٰ، سچائی، صاف دلی،شکر کی بجا آوری اور خالص عبادت،اصل خوبصورتی یہی ہے کہ بندہ رب کی نظر میں معتبر بن جاتا ہے
لہٰذا زندگی کا سفر اللہ سے اللہ تکباقی سب کھیل تماشہ!۔




































