
روزینہ خورشید
میرے پاس روتا ،بلکتا، سسکتا "کراچی "کا ایک برقی خط آیا ہے جو میں آپ سب سے شیئر کرنا چاہتی ہوں ،پڑھ کر سب اسے
بچانے کی ضرور کوشش کریں۔۔۔
کوئی ہے ۔۔۔۔کوئی ہے جو میری آواز سنے ۔۔۔۔ سنو!میں کراچی ہوں۔۔۔۔ کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔ میں وہ میگا سٹی ہوں جہاں رہنا باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔ میں پاکستان کا معاشی حب ہوں بلکہ میں تو منی پاکستان ہوں، میں چلتا ہوں تو پاکستان چلتا ہے ۔۔میرا دامن بہت وسیع ہے، میں نے ہر مسلک اور ہر زبان بولنے والوں کو اپنے اندر سمویا ہوا ہے ۔میں سب کی ویسے ہی پرورش کرتا ہوں جیسے باپ اپنی اولاد کی پرورش کرتا ہے۔۔۔ اپنی ہر ضرورت کو بالائے طاق رکھ کر اپنے بچوں کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے کسی صلے اور ستائش کی تمنا کیے بغیر ہر بچے پر بلا تخصیص خرچ کرتا ہے۔۔۔۔لیکن جس طرح سے بڑھاپے میں اکثراولاد اسے ڈس اون کر دیتی ہے بالکل اسی طرح مجھے بھی اب کوئی اون نہیں کر رہا ،کوئی بات نہیں میں سہ لوں گا لیکن جب بات میرے بچوں کی جان پر بن آئے گی تو میں خاموش نہیں رہوں گا ۔
میں ساری دنیا میں شور مچاؤں گا ۔۔۔۔لوگو میری فریاد سنو !! آج میں بہت کرب میں ہوں مجھ پر کسی عفریت نے قبضہ کر لیا ہے ،اس عفریت کو صرف خون چاہیے ۔۔۔کبھی وہ میرے بچوں کو ڈمپر سے کچل کر خون حاصل کر رہا ہے۔۔۔۔ کبھی مین ہول میں گرا کر مار رہا ہے۔۔۔۔ کبھی اسٹریٹ کرائم کے دوران قتل کر رہا ہےاور اب تو حد ہو گئی ہے ،اس نے میرے معصوم بچوں کو گل پلازہ میں زندہ جلا دیا ہے۔۔۔۔ میرے جلتے ہوئے بچوں کی چیخیں مجھے سونے نہیں دیتیں ۔۔۔خدا کے لیے کوئی مجھے اس عفریت کے چنگل سے نکال لے۔۔۔۔ میں اپنے تمام بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی جینا چاہتا ہوں ۔
میں انہیں پانی ،بجلی ،گیس ،مہنگائی جگہ جگہ ابلتے گٹر ،کھلے مین ہول ،ہر طرف کچرے کے ڈھیر کے انباراور کھنڈر ہوتی ہوئی سڑکوں سے پریشان ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔۔۔اور خاص کر جب سے میرا ہنستا، کھیلتا، مہکتا چہکتا گل پلازہ دہکتا ہوا تندور بنا ہے ،تب سے میں بہت خوفزدہ ہو گیاہوں ۔۔۔مجھے کسی پل چین نہیں ہے ،مجھے اپنے بچوں کی جانیں بچانی ہیں ۔
خدا کے لیے میری فریاد سنوٰ۔۔۔۔۔ میں "کراچی "ہوں مجھے جینے دو ۔۔۔مجھے اپنے پوتوں (جین زی )سے بہت امیدیں ہیں، وہ نوجوان ہیں پڑھے لکھے ہیں، ذہین ہیں، متحرک ہیں، کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہی اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیاں دیکھ رہے ہیں۔۔۔ میرے بچو! تمہارا کراچی فریاد کر رہا ہے اس کو بچانے کے لیے تم لوگ اب میدان عمل میں آ جاؤ۔۔۔ اس عفریت کو شکست دینے کی کوشش کرو جس نے تمہارے کراچی کا سکون چھین لیا ہے جو تمہارے کراچی کو خون آشام گدھ کی طرح نوچ رہا ہے جو تمہارے کراچی کے تجارتی مراکز کو راکھ میں تبدیل کر رہا ہے۔۔۔۔ کم از کم مجھے یہ اطمینان تو ہوگا کہ میرا کوئی اپنا ہے جس تک میری فریاد پہنچ گئی ہے ۔۔۔بڑے بوڑھے کہتے ہیں اصل سے سود پیارا ہوتا ہے تو میرے پیارے جین زی !!! تم بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتے ہو نا ۔۔۔۔۔ تم مجھے مایوس نہ کرنا ۔
فقط
تمہارا پیارا کراچی




































