
روزینہ خورشید
نیپولین نے کہا تھا "تم مجھے بہترین( پڑھی لکھی )مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا ۔یہ
حقیقت ہے کہ تعلیم یافتہ اور باشعور عورت نہ صرف نسلوں کو سنوارتی ہے بلکہ ایک مہذب قوم کی بنیاد بھی رکھتی ہے، بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں کی خواتین کو آج تک بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں۔ انہیں آج بھی بھیڑ بکریوں کی طرح کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیا جاتا ہے ،وراثت میں حق سے محروم رکھا جاتا ہے، بھائیوں کے لیے وٹہ سٹہ کی صورت میں قربان کیا جاتا ہے ،حتی کہ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
عورت کے حقوق کی باتیں تو سب کرتے ہیں مگر حقیقت تو یہ کہ آزادی کے اٹھہتر سال گزر جانے کے بعد بھی وہ محکوم ہے جس کی وجہ ملک میں رائج غیر عادلانہ نظام ہے۔
پچھلے دنوں مینار پاکستان کے سائے تلے جماعت اسلامی کے" اجتماع عام۔۔۔۔ بدل دو نظام" میں لاکھوں افراد کی شرکت نے جس نے ایک بات تو واضح کر دی کہ اب عوام ناانصافی پر مبنی اس نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس اجتماع میں شریک ہزاروں خواتین جو مختلف صوبوں اور شہروں سے سرد موسم کی پروا کئے بغیر آئی ہوئی تھیں ان کے پیش نظر کوئی ذاتی مفاد نہیں بلکہ ایک قومی مقصد تھا کہ ہم ایسے نظام سے مطمئن نہیں جو خواتین کو ان کے جائز حقوق (جو شریعت نے اسے دیے ہیں )دلانے میں ناکام رہےجوخواتین کو جائیداد میں وراثت کے حق سے محروم رکھنے والوں کے خلاف کاروائی نہ کرے، جہاں وٹے سٹے کی شادی پر پابندی نہ لگائی جا سکے، جہاں وڈیرے اور جاگیردار (ما سوائے چند کے)اپنے مزارعوں کے گھر کی خواتین کے ساتھ بد سلوکی اور بدتمیزی کرتے ہوں لیکن انہیں لگام دینے والا کوئی نہ ہو۔۔۔جہاں عورت تخلیق کے مراحل سے گزرتے ہوئے طبی سہولتوں کے فقدان کے باعث جان سے گزر جائے لیکن کوئی دادرسی کرنے والا نہ ہو،جہاں جہالت کے ایسے دبیز پردے پڑے ہوں کہ لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا جرم تصور کیا جاتا ہو وہاں ایسے نظام کو بدلنے کے لیے متحد ہو کر ملک کے چپے چپے تک اپنا پیغام "بدل دو نظام " پہنچایا جائے یہی وہ مقصد تھاجس نے انہیں نرم گرم بستر چھوڑنے اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کیا۔ ۔۔۔۔انہیں وہاں نہ کسی طرح کی ہراسمنٹ کا خوف تھا اور نہ ہی کھو جانے کا ڈر لہٰذا وہ بلا خوف و خطر اس اجتماع عام کا حصہ بنیں ۔
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلا تم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
امت مسلمہ کی شہزادیوں کا یہ مجاہدہ یقیناً سراہے جانے کے لائق ہے۔اجتماع عام کی منتظمین خواتین نے جو بے مثال کردار ادا کیا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔وہاں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین اور کتابوں کی مصنفین موجود تھیں جو دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ دین کا فہم بھی رکھتی تھیں۔انہوں نےپر اعتماد اور احسن طریقے سے اپنی صدا ارباب اختیار تک پہنچائی خصوصاً خواتین کے حقوق کے حصول کے لئے جس طرح بات رکھی اس نے یہ ثابت کر دیا کہ خواتین باپردہ اور باوقار رہ کر ہر محاذ پر اپنے آپ کو منوا سکتی ہیں اور یہی دراصل جماعت اسلامی کی تربیت ہے۔
وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین کا یوں سڑکوں پر آنا اچھا نہیں یا ان کو کسی بھی قسم کے تحفظات ہیں تو ان سے دست بدستہ عرض ہے کہ خواتین جب ساتھ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔۔ ۔دفتروں میں ساتھ جاب کر سکتی ہیں ۔۔۔۔۔ڈاکٹر، انجینئر، ادیبہ، مصورہ ،پائلٹ ڈرائیور ،کھلاڑی،استاد ، وکیل اورجج کے عہدے پر فائز ہو سکتی ہیں۔۔۔۔گھروں کے اندرونی معاملات کو حل کرنے کے لیے مشورے دے سکتی ہیں۔۔۔۔ غرض کے زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ چل سکتی ہیں تو خیر اور بھلائی کے کاموں میں وہ کیوں پیچھے رہیں ،جب کہ اللہ تعالیٰ سورہ توبہ آیت 71 میں فرماتا ہے۔۔۔۔
"اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار اور کارساز ہیں وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں برائی سے روکتے ہیں "اجتماع عام کے اسٹیج سے باپردہ باوقار اور بیدار مغز خواتین کی آواز کی گونج نے یقیناً ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہوئے ملک کے طول و عرض میں موجود ظلم کی چکی میں پسی ہوئی خواتین کو بیداری کا پیغام دے دیا ہوگا ۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ عورت کی بیداری سے ہی گھر ،خاندان اور معاشرے کی تبدیلی ممکن ہے جس کا نتیجہ جلد یا بدیر نظام کی تبدیلی پر منتج ہوتا ہے ۔ "اجتماع عام بدل دو نظام" میں شریک تمام مائیں بہنیں اور بیٹیاں مبارکباد کی مستحق ہیں خاص کر وہ جنہوں نے اپنے ننھے بچوں کے ساتھ اس میں شرکت کی یقیناً ایسی ماؤں کی گودوں میں پل کر جوان ہونے والی نسل ہی قوموں کی تقدیر بدلنے کا ہنر رکھتی ہے ۔
ایک انگریز شاعر ولیم راس والیس نے کیا خوب کہا تھا:دی ہینڈ دیٹ روکس دی کریڈل، از دی ہینڈ دیٹ رولز دی ورلڈ
"جو ہاتھ گہواریے کو جھلاتا ہے وہی ہاتھ دنیا پر حکومت کرتا ہے"
بلا شبہ اس اجتماع عام میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین کی شرکت ملک کے چپے چپے میں "بیداری کی لہر "پیدا کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔۔۔۔۔۔ان شاءاللہ





































