
روزینہ خورشید
فون کی گھنٹی کافی دیر سے بج رہی تھی۔ ارم نے جلدی سے استری کا سوئچ بند کیا اور لپک کر فون اٹھایا۔
"السلام علیکم!"
وہ کبھی بھی فون پر ہیلو نہیں کہتی تھی۔
"وعلیکم السلام!"
دوسری طرف سے سیما کی چہکتی ہوئی آواز سنتے ہی ارم نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی
"کہاں غائب ہو؟ نہ کال ریسیو کر رہی ہو نہ میسجز کا جواب! میں تو سمجھ رہی تھی اس بار تم مجھ سے ملے بغیر ہی قطر چلی گئی ہوگی!"
سیما پہلے ہی ان سوالات کے لیے پوری طرح تیار تھی
"ارے بابا! چھری تلے دم تو لے لو…در اصل میرا فون خراب ہو گیا تھا، اسی لیے تم سے رابطہ منقطع تھا۔ آج ہی بنوایا ہے، اور سب سے پہلے تمہارا نمبر نکال کر تمہیں ہی کال کی ہے۔"
وضاحت سن کر ارم مطمئن ہوگئی۔
" اچھا یہ بتاؤ اتنی بے قراری کس وجہ سے تھی؟
سیما نے فکر مندی سے پوچھا۔
"بات ہی ایسی ہے… میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ لاہور کے اجتماع عام میں شرکت کے بارے میں تمہارا کیا ارادہ ہے؟
میں تو جاؤں گی ان شاءاللہ سیما نے پرجوش ہو کر جواب دیا۔ دل تو میرا بھی بہت چاہ رہا ہے، مگر بچے چھوٹے ہیں، اسکول سے چھٹی بھی نہیں مل رہی ، اور ساس بھی بیمار ہیں۔ میری غیر موجودگی میں ان کی دیکھ بھال کون کرے؟ میں خود یہاں موجود ہوں لیکن دل اجتماع میں اٹکا ہوا ہے۔اس بے قراری کو تم سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔
میں سمجھ سکتی ہوں تمہارے جذبات کو لیکن کوئی بات نہیں دوست… نیتوں کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ تم اپنی جگہ کسی اور کو کیوں نہیں بھیج دیتیں؟ تمہارے پاس تو شرعی عذر ہے۔"
ارم حیران ہوئی,"وہ کیسے؟ میری جگہ کون جائے گا؟"
سیما نے سمجھایا،"لوگ بہت ہیں جو جانا چاہتے ہیں مگر زادِ راہ نہ ہونے کی وجہ سے دل میں حسرت دبائے بیٹھے ہیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کا یہی تو مطلب ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا جائے۔ تم اپنی مالی معاونت کے ذریعے بھی اس اجتماع عام میں شریک ہو سکتی ہو۔ ویسے بھی یہ اجتماع عام باقی اجتماعات سے مختلف ہے ۔۔۔۔یہ گلے سڑے نظام کے مقابلے میں اسلامی نظام کے نفاذ کی طرف بڑھایا جانے والا قدم ہے۔"
"اندھا کیا چاہے دو آنکھیں! ٹھیک ہے، میں اپنی جگہ کسی اور بہن کو بھیجنے کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کرنا چاہتی ہوں، تاکہ اجتماع عام۔۔۔بدل دو نظام کی تحریک میں میرا حصہ بھی شامل ہو جائے۔"
اچانک سیما کو یاد آیا " ارم تم تو ٹویٹر، فیس بک اور ٹک ٹاک بھی استعمال کرتی ہو، مالی تعاون کے ساتھ ساتھ تم سوشل میڈیا پر بھی اجتماع کی بھرپور تشہیر کرو۔ لوگوں کو اجتماع میں شرکت کے لیے جذبہ بیدار کرواور جو نہیں جا سکتے انہیں انفاق فی سبیل اللہ کے لیے تیار کرو۔ اللہ کے ہاں تمہاری یہ کوششیں ضرور قبول ہوں گی۔"
ارم نے پُرعزم لہجے میں کہا،"بالکل! آج ہی اپنے پورے حلقۂ احباب کو اس بات پر آمادہ کروں گی کہ وقت کم ہے… اور مقابلہ سخت! جو بہنیں بنفس نفیس نہیں جا سکتیں، وہ انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے ضرور اس اجتماع کا حصہ بنیں۔"
اچھا تم اجتماع میں جانے کے لیے تیاری کرو اور میں اپنے کام سمیٹتی ہوں تاکہ سوشل میڈیا کے لیے وقت نکال سکوں انشاءاللہ اجتماع سے واپسی پر میں تم سے آنکھوں دیکھا حال سنوں گی۔۔۔۔ارم نے مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا۔





































