
روزینہ خورشید
افق کےپارڈوبتا سورج کچھ لوگوں کے لیےپیامِ مسرت لےکرآیا تھا۔یہ تقریباً 20 سے 25 افراد پر مشتمل ایک ڈرا سہما قافلہ تھا، جس میں معصوم بچے،
نوجوان،مرداورعورتیں شامل تھیں۔سب نے ایک بوسیدہ کھنڈرمیں پناہ لے رکھی تھی اوربےچینی سےسالارِقافلہ کےاشارےکےمنتظرتھے۔
جیسے ہی رات کی سیاہ چادر نے دنیا کو اپنی آغوش میں لیا، ایک مدہم سرگوشی سنائی دی:"سب خاموشی سےدبے پاؤں میرے پیچھےآجائیں، ہم منزل سے بس تھوڑا ہی دور ہیں۔ بس یہ خیال رکھیے کہ کوئی آواز نہ نکلے، ورنہ ہم جس آگ اور خون کے دریا کو عبور کر کے آئے ہیں، اس ساری جدوجہد پر پانی پھر جائے گا۔"
یہ سنتے ہی سب سرجھکائے،آنکھوں میں آنسو،دل میں کسک اورغم کی ادھوری تصویریں لیےچل پڑے۔ ظاہرہےاپنا جنم بھومی چھوڑنا،آباکی قبروں کوخیر باد کہنا،تنکا تنکا جوڑ کر بسائے گئے آشیانےکواپنی آنکھوں کےسامنےٹوٹتےبکھرتے دیکھنااوراپنےپیاروں کوتڑپتااورلٹتا دیکھ کربھی بےبسی سےخاموش رہنا—یہ وہ زخم ہیں جن کی ٹیسیں ساری زندگی اذیتیں دیتی رہتی ہیں۔
قافلے میں موجود ہر شخص کی روح پر زخم لگےتھے لیکن سب کو یقین تھا کہ جیسےہی وہ منزل مقصود پرخیریت سےپہنچیں گے،یہ زخم مندمل ہونا شروع ہو جائیں گے۔
نجمہ، اپنے شیر خوار بچے کو سینے سےچمٹائے،قافلےمیں سب سےپیچھےآہستہ آہستہ چل رہی تھی۔اس نےاس سفرمیں اپناشوہر،دس سالہ بیٹی سکینہ،اپنا گھر بار سب کچھ کھو دیا تھا،بس یہ ننھا احمر ہی اس کی کل کائنات تھا جس کےسہارےاسےاب زندگی گزارنی تھی۔
راستے میں کہیں کہیں جھینگر کی آواز فضامیں مزیدہولناکی پیداکردیتی تھی۔سالارِ قافلہ کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ بارڈر پرسرچ لائٹس سےنگرانی ہو رہی ہے۔ جب روشنی کا رخ دوسری طرف ہوتا تووہ چلنے لگتے، ورنہ جھاڑیوں کی آڑ میں دبک جاتے۔
جب منزل قریب آ چکی تواس کی سرگوشی پھرابھری"بس چند قدموں کی دوری پرسرزمینِ پاکستان ہے۔وہی مقدس زمین،جس کی مٹی کو چومنے کی خواہش آپ سب کے دل میں ہے لیکن یادرکھیں، ایک معمولی سی غلطی بارڈر پرموجودسپاہیوں کوہماری طرف متوجہ کردے گی اوروہ ہمیں گولیوں سے بھون ڈالیں گے ۔
اسی لمحےنجمہ کےشیرخواربچےنےرونےکےلیےمنہ کھولا۔ ننھا معصوم کہاں جانتا تھا کہ دودھ مانگنے کےلیےسرحد کےکس پاررونا ہے۔نجمہ نے جھٹ دوپٹے کا گولہ بنا کر اس کے منہ میں ٹھونس دیا اوراسے سینے سے زورسے چمٹا لیا، تاکہ اس کی آواز سے سب کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑ جائیں۔
جیسے ہی بارڈر پار ہوا، نجمہ نے بچے کے منہ سے دوپٹہ ہٹایالیکن بہت دیرہوچکی تھی۔ ننھےشہزادے کی آواز ہمیشہ کےلیے خاموش ہو چکی تھی۔ نہ جانے کس لمحے وہ جنت کا مکین بن چکا تھا۔
نجمہ نے منزل مقصود کے حصول کے لیے اپنے آخری سہارے کی بھی قربانی دے دی تھی۔ اپنے لخت جگر کو سینے سےلگائے ہی وہ سجدۂ شکر میں گر پڑی۔





































