
روزینہ خورشید
سوشیالوجی میں ایک ٹرم پڑھی تھی کہ جب بھی دنیا میں کہیں آبادی حد سےتجاوز کر جاتی ہےتو قانون فطرت حرکت میں آتاہےاور کوئی ایسی قدرتی آفت یا بڑا حادثہ رونما ہوتا ہے جس
میں جانی ومالی نقصانات ہوتے ہیں اور یوں قدرت آبادی کا توازن قائم رکھتی ہے،مثلآ ہولناک زلزلہ یا سونامی جس میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ چشم زدن میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔
گذشتہ چند دنوں سےخیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہیں جہاں کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے کثیر تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے۔
کلاؤڈ برسٹ( بادلوں کا پھٹنا) زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہےجہاں گرم ہوا اوپر ٹھنڈے بادلوں سے ٹکراتی ہے اور بادلوں کو پھاڑ دیتی ہے لہذا بادلوں میں موجود وہ پانی جسے کئی دنوں یا گھنٹوں کی بارش کی صورت میں برسنا تھا ، چند لمحوں میں زمین پر قہر الٰہی بن کر ٹوٹ پڑتا ہے اور اپنے ساتھ پتھر اور مٹی کا سیلاب لیے اپنے راستے میں آئے ہر شے کوخس و خاشاکِ کی طرح بہا لے جاتا ہے۔
سیلاب کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ جانی نقصان سے زیادہ مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں لیکن حالیہ سیلاب نےجو کہ بادلوں کے پھٹنے کی وجہ سے پہاڑوں سے پتھر لئے چلے آرہے تھے ،لوگوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیا۔اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سیلاب نے 700 زندگیاں نگل لیں اور ابھی بھی تا دم تحریر کئ قیمتی جانیں ملبے تلے دبی ہیں
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
موسمیاتی تبدیلی اپنی جگہ مگرہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئےکہ بعض اوقات قدرتی آفات انسانوں کےخود اپنےاعمال کا نتیجہ ہوتےہیں۔جنگلات کی کٹائی خواہ وہ قانونی ہو یا غیر قانونی ٹمبر مافیا کی سرپرستی میں ہو رہی ہے جو اپنے فائدے کے لیے پہاڑوں پر موجود درختوں کی لکڑی کاٹ کر بیچ ڈالتے ہیں۔اس میں بلا شبہ انہیں سرکاری اداروں اور بااثر شخصیات کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ درخت کٹنے کی وجہ سےبارش کا سسٹم متاثر ہوتا ہے، طوفانی بارشیں شروع ہو جاتی ہیں اورپانی زمین میں جذب ہونے کی بجائے سیلابی ریلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ بڑے پیمانے پرلینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہےجس سےانسانی زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ ٹمبر مافیا کے علاوہ ایک اور مافیا بھی ہے جو پہاڑوں پر موجود بڑے بڑے پتھروں اور ماربل کو کاٹ کربیچنے کے کاروبار میں ملوث ہے جس پر ہاتھ ڈالنا تو دور ،ان کے بارے میں بات بھی نہیں کی جا سکتی۔ حالیہ کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں کٹے ہوئے درخت اور پتھروں کا جو سیلاب آیا اس نے تمام پول کھول کر رکھ دیے۔اس کے علاوہ دریا کے راستے میں بڑے بڑے ہوٹل اور ریسٹورنٹ بنے ہوئے ہیں ۔آبی گزرگا ہوں پر ہوٹل بنانا سنگین غلطی ہے لہٰذا غلطی کا خمیازہ تو بھگتنا ہی ہے یہ الگ بات ہےکہ کرے کوئی( اشرافیہ) اور بھرے کوئی( غریب عوام)
دوسری اہم بات کہ جب کسی علاقےمیں گناہ عام ہوجائے تو وہاں عذاب بھی اعلانیہ آتےہیں جس میں گیہوں کےساتھ گھن بھی پس جاتا ہے
جیسا کہ اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے ترجمہ
" اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب سے پہلے دنیا کے عذاب کا بھی مزہ چکھائیں گےشاید وہ (ہماری طرف) لوٹ آئیں " ۔(سورہ سجدہ: 21)
اب بھی وقت ہے اگر من حیث القوم ہم اپنی غلطیوں کو سدھار لیں ، جانے ان جانے گناہوں سے توبہ کرکےرب کی طرف پلٹ جائیں تو بلا شبہ رب کی رحمت ہمیں ڈھانپ لے گی ۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی چند سخت اقدامات کرنے ہوں گے جن میں آبی گزرگاہوں پر ہوٹل بنانے کی سختی سے ممانعت کی جاۓ۔ٹمبر مافیا کو بےنقاب کیا جائے اس کے علاوہ پہاڑی علاقوں سے پتھروں کو کاٹ کر بیچنے والے عناصر کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے تا کہ آئندہ اس طرح کی تشویش ناک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔





































