درد ہجرت

روزینہ خورشید 

"یار احمد! یوم آزادی قریب آرہی ہے اس بار ٹھیک سے تیاری کر لینا۔۔۔پچھلی بار یاد ہے نا پاپا سے فون کروانا پڑا تھا پولیس والوں کو۔۔۔۔۔اور رشوت الگ دینی پڑی تھی سی ویو

جانے کے لئے۔۔" حمزہ نے گاڑی کا موڑ کاٹتے ہوئے احمد سےکہا،حمزہ،احمد اوراکرم یہ تینوں یونیورسٹی کےاسٹوڈنٹ تھےجوہرسال یوم آزادی کےموقع پر اپنی موٹر سائیکلوں کا سائلنسر نکال کر شور ہنگامہ کرتے ہوئے سی ویو جشن آزادی منانے جایا کرتے تھے جہاں ان کا چوتھا دوست نعمان اپنی گاڑی میں شراب کی بوتلیں اور دیگر لوازمات لیے موجود رہتا تھا۔ نعمان کے والد بہت بڑےبزنس مین تھے،انھیں جمع ،تفریق،اورنفع ونقصان سےہی فرصت نہ تھی تووہ اپنی اکلوتی اولاد کی تربیت کیا کرتے۔احمد کےوالد کا انتقال ہو چکا تھا اس کے دو بھائی امریکہ میں رہائش پذیر تھے وہاں سے وہ اس کے لئےماہانہ خرچ بھیجا کرتے تھے اور یہاں وہ ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ جب جوان اور گرم خون پر کوئ نظر رکھنےوالا نہ ہو اور پیسوں کی برسات ہو تو بھٹکنا تو لازمی ٹھرا۔۔۔۔اکرم کے والد انکم ٹیکس آفیسر اور نام کے مسلمان تھے، ایمانداری کی الف سے بھی نا واقف تھے لہذا جائز وناجائز ہرطریقے سے دولت اکٹھی کرنا ان کی زندگی کا مقصد تھا "کہتےہیں حرام مال کہیں نہ کہیں تواثر دکھاتا ہے" لہذا روپے پیسے کی ریل پیل نے اکرم کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔۔۔۔ حمزہ کے پاپا ایس ایس پی تھے لہذا وہ پورے شہر کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے دندناتا پھرتا تھا جہاں کسی نے روکنے کی کوشش کی تو فورا باپ سے فون کروا دیا۔۔۔۔۔ غرض کہ ان چاروں لڑکوں کی زندگی کا مقصد کھانا ،پینا، پلانا اورموج مستی کرنا تھا گویا وہ لوگ جیسے چاہو جیو کے سلوگن پر عمل پیرا تھے ۔
خاص کر13اور 14اگست کی درمیانی رات ساحل سمندر پر*جش آزادی* سیلیبریٹ کرنا،صبح ساحل کےقریب بنے ریسٹورنٹ میں ناشتہ کرنا ، دن چڑھے گھر لوٹنا اور سارا دن سو کے گزارنا ان کا معمول تھا ۔۔۔۔۔

وہ بھی ایک ایسی ہی 14 اگست کی صبح تھی جب یہ چاروں قہقہے لگاتے اور گزری رات کے قصےسناتے ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے. ریسٹورنٹ کے مالک مصطفی صاحب گزشتہ دو تین سالوں سے ان لڑکوں کو اکثر ساحل پر راتیں گزارتے دیکھا کرتے اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتےتھے، آخر کاراس دن انہوں نے ان نوجوانوں سے بات کرنے کا تہیہ کر لیا۔۔۔ہولے ہولے قدم اٹھاتے ہوئے ان کے قریب جا کر ان کو مخاطب کرتےہوئے کہا"السلام وعلیکم!بیٹے اگر اجازت دیں تو میں آپ لوگوں کے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھ جاؤں؟" چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا،"جی انکل آپ بیٹھ سکتے ہیں" حمزہ نے کرسی آگے کرتے ہوئے کہا۔
.تالاب میں پہلا پتھر پھینکنے پر انہوں نےدل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا اور بولےبیٹا آپ لوگوں کا بہت شکریہ آپ لوگ میرے ریسٹورنٹ میں ناشتہ کرنے آۓ اور مجھے اس لائق سمجھا کہ میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر کچھ دل کی باتیں شیئر کر سکوں"۔
احمد : "ارے نہیں ,نہیں انکل آپ جو کہنا چاہتے ہیں کھل کے کہیں ویسے بھی ابھی ہمیں گھرجاکرسوناہی ہے"کیوں نعمان !احمد نےنعمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
"ہاں ہاں مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں" نعمان نے باقیوں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا ۔
مصطفی صاحب نے گلا کھنکارتے ہوئے کہا بیٹا آپ لوگوں کی عمریں ابھی صرف 20 سے 25 کے درمیان ہیں جبکہ میں ایک ضعیف العمر شخص ہوں نوجوانوں نے بڑی حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔اکرم تو آنکھ مارتے ہوئے شرارت سے کہنے لگا انکل آپ تو55 سے اوپر کے نہیں لگتے، ابھی آپ کا یہ حال ہے تو آپ جوانی میں کیا چیز ہوں گے۔
مصطفی صاحب افسردگی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے "بیٹا جوانی، صحت، دولت علم، آزادی یہ سب نعمتیں ہیں اور اگر نعمتوں کی قدر نہ کی جائے تو وہ چھین لی جاتی ہیں جبکہ جو لوگ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرتے ہیں رب انہیں اور نوازتا ہے" رہی بات میری صحت کی، تو میں نے اپنی جوانی ماشاءاللہ بے داغ گزاری ہے اور اب بھی اپنے آپ کو مثبت کاموں میں مصروف رکھتا ہوں ،با قاعدگی سے اس عمر میں بھی جم جاتا ہوں ۔۔۔۔ یہ رب کا کرم ہے کہ اس نے میری نعمتوں کو برقرار رکھا ہے۔
اب کی بار نعمان نے کہا "انکل دیکھیں ہم بھی اپنی آزادی کی نعمت کی کتنی قدر کرتے ہیں۔ کتنےشایان شان طریقے سے ہر سال ساحل سمندر پر آکر جشن آزادی مناتے ہیں،راگ رنگ کی محفلیں سجاتے ہیں ،خوب عیاشیاں کرتے ہیں ".

"اسی بات کا تو رونا ہے بیٹے آج کی نوجوان نسل کو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ آزادی جو ہم منا رہے ہیں کتنی قربانیاں دینےکے بعد حاصل کی گئی ہے۔۔۔۔ کتنے ہی آگ اور خون کا دریا عبور کر کے ہم یہاں تک پہنچے ہیں ۔۔۔۔کتنے باپوں نے اپنے جگر گوشے کھوۓ ہیں ۔۔۔کتنی بہنوں کی ردائیں تار تار ہوئ ہیں کتنی ماؤں نے اپنی عصمت کی حفاظت کےلئے اپنی ننھی پریوں سمیت کنوؤں میں چھلانگ لگائی ہے ۔۔۔۔کتنے ہی معصوم بچوں نے یتیمی ویسیری کی قبا اوڑھی ہے ۔۔۔۔ آزادی کی قدر تو ان سے پوچھو جو ایک نہیں بلکہ دو بار ہجرت کے کرب سے گزرے ہیں" مصطفی صاحب کی آواز میں جانے کیسا درد تھا کہ چاروں دم بخود ان کی بات سنتے رہے ۔

درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں
سایہ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے

حمزہ نے شعر سنتے ہی کہاانکل ابھی آپ نے ہجرت کا لفظ استعمال کیا،یہ لفظ میں نےبہت بار بچپن میں اپنی دادی کے منہ سے سنا تھا وہ اکثر ہجرت کے واقعات یاد کر کے روتی تھیں۔
مصطفیٰ صاحب نے آہ بھرتے ہوۓ کہا "جی بیٹے
ہزاروں خاندانوں نے اپنی جان و مال کی قربانی دے کر یہ ارض وطن "پاکستان" اس لیےحاصل کیا تھاکہ یہاں سکون اوراطمینان سےاسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں مگر ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہ "اسلام" کے اصول نظر آتے ہیں نہ "جمہوریت" نظر آتی ہے بلکہ ہمارے ایوان سیاست دانوں"کی"منڈی" بنےہوئےہیں اور رہی بات پاک لوگوں کی سرزمین کی تو وہ بھی اب ناپید ہوتی جا رہی ہے. ہر طرف کرپشن کا دور دورہ ہے ہر کوئی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتا ہے ۔پاک لوگوں کے ذکر پر چاروں کی نظریں زمین میں پاکیزگی تلاش کرنے لگیں۔ اکرم نے کہا انکل آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں یہ سب باتیں تو آج تک ہم سے کسی نے اس طرح سے کی ہی نہیں۔ مصطفی صاحب کو یہ سن کر تھوڑی تقویت ملی کہ ابھی پانی سر سے اونچا نہیں ہواہےان کو ابھی راہ راست پر لایا جاسکتا ہے۔بیٹے میں آپ کو اپنی زندگی کا واقعہ سناتا ہوں شاید اس سے آپ لوگوں کو آذادی کی قدر و قیمت معلوم ہو سکے۔۔۔۔انہوں نے پر امید نظروں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
جی انکل ضرور لیکن پہلے ہم ناشتے کا آرڈر دے دیں تا کہ آپ کی کہانی سننے کے دوران ہی ہماری پیٹ پوجا بھی ہو جائے حمزہ نے ویٹر کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ویٹر نے ان کے آرڈر کے مطابق ناشتہ لگا دیا تو مصطفی صاحب نے بولنا شروع کیا، میں اپنے والدین کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا تھا۔مجھ سے بڑی 3 بہنیں تھیں سب سے بڑی بہن 8 سال کی تھی اور 2 جڑواں بہنیں 6 سال کی تھیں جبکہ میں اس وقت صرف پانچ سال کا تھا مگر ابھی بھی کچھ چیزیں میرے حافظے میں محفوظ ہیں ۔
جیسے ہی پاکستان بننے کا اعلان ہوا تھا ہر طرف ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ہرطرف ہندو "جےماتا"اور جے "شری رام" کے نعرے لگاتے مسلمانوں کا قتل عام کر رہے تھے ،ہمارے محلے میں بھی ہندو بلوائیوں نے حملہ کر دیا تھا عورتوں کی عزت لوٹ کران کو مار دینا ان کا پسندیدہ ترین کام تھا ننھے بچوں اور بوڑھوں کو وہ گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے ۔مجھےیاد ہےفسادات شروع ہونے سے پہلے ہی بڑی بہن کو امی نے دوسرے شہر نانی کے گھر رہنے بھیج دیا تھا جبکہ امی ،ابو میں اور میری دو جڑواں بہنیں اپنے گھر میں ہی تھے۔ ابو نےکہا تھا فسادات بہت بڑھ گئے ہیں کوئی گھر محفوظ نہیں ہے درندے چھوٹی چھوٹی بچیوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے مناسب وقت دیکھ کر ہم لوگ بھی یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے لیکن اسی رات چار ہندو بلوائی ہاتھوں میں تلوار، کرپانیں اور برچھی لیے دندناتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئے ایک نے ابو کے سینے میں برچھی ماری میں دروازے کے قریب کھڑا تھا۔ آخری چیخ میں نے ابو کی سنی "مصطفی باہر بھاگو" میں نے پلٹ کر امی اور بہنوں کی طرف دیکھا جن کو بلوائی لوٹ کا مال سمجھ کر قہقہے لگاتے ہوئےان کی طرف بڑھ رہے تھے میری نظروں نے آخری منظر جو دیکھا وہ آج تک مجھے چین کی نیند سونے نہیں دیتا ۔۔۔۔ " میری امی دونوں بہنوں کو بغل میں دبائے کنویں میں چھلانگ لگا چکی تھیں"۔ان کے اس جملے پر چاروں لڑکوں نے ناشتےسےہاتھ کھینچ لیا اور خاموشی سے آگے کی کہانی سننے لگے۔
ابو کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی،"

مصطفی باہر بھاگو"میں تیزی سےباہر کی طرف دوڑ پڑااورکسی صورت گرتےپڑتےایک گھرمیں داخل ہوگیا جس کوبلوائی پہلے ہی بربریت کا نشانہ بنا چکے تھے میں وہیں دبک کر بیٹھ گیا مجھ سے وہ منظر بھولا نہیں جا رہا تھا جب ابو کو برچھی مارا گیا، جب امی نے کنویں میں چھلانگ ماری میں نیم بے ہوشی میں چلا گیا ۔ جب آنکھ کھلی تو ظفیر چچا جو کہ ہمارے پڑوسی تھے وہ میرے منہ پہ پانی کے چھینٹے مار رہے تھے ان کے بھی سارے خاندان کو بلوائیوں نے گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا تھا میری طرح وہ بھی تنہا تھے انہوں نے مجھے اپنا بیٹا بنا لیا اور مجھے لے کر پاکستان ہجرت کر گئے ۔ میرے خاندان جیسے لاکھوں خاندانوں نے اس ارض وطن کے لئے اپنا لہو دان دیا ہے تب جا کر ہمیں یہ آزادی ملی ہے لیکن تم لوگ آزادی کی قدر کیا جانو۔۔۔۔تم لوگوں نے توجن گھرانوں میں آنکھ کھولی ہےوہاں دولت،عزت شہرت سب سر جھکائے کھڑے ہوتے ہیں

مٹی کی محبت میں  ہم  آشفتہ  سروں  نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

مصطفیٰ صاحب اپنے آنسو صاف کرنے لگے۔واقعی دل سےجوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےان کی باتوں نےبھی اثردکھاناشروع کیا چاروں نوجوانوں کی آنکھیں بھی نم تھیں ۔حمزہ نے آگے بڑھ کر ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا"ھمیں معاف کر دیں انکل ھمیں تو کسی نے اس طرح سے ہجرت کے واقعات نہیں سناۓ میری دادی جب زندہ تھیں تو وہ سنایا کرتی تھیں کہ قیام پاکستان کے وقت ہندو مسلم فسادات کی آگ نےان کے گھر کو کس طرح جلایا۔وہ اس وقت اپنی نانی کے گھر تھیں جب اطلاع ملی کہ ان کے پورے گھر والوں کو ہندوؤں نے شہید کر دیا ۔اس کے بعد ان کی نانی ان کو لےکر پاکستان آگئیں۔ یہاں آکرلوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ ان کا ایک چھوٹا بھائی بلوائیوں کے حملے میں بچ گیا تھا، جسے کوئ اپنا بیٹا بنا کر پاکستان لے گیا،انہوں نے اس کو بہت ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں ملا۔وہ اکثر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو یاد کر کے روتی تھیں خاص کر اپنے چھوٹے بھائی مصطفی کو جو زندہ ہونے کے باوجود انھیں مل نہ سکا آخر وہ اسے یاد کرتے کرتے اس دنیا سے چلی گئیں۔
مصطفی صاحب نے حیرت سے حمزہ کی طرف دیکھا۔۔۔ کہیں آپ ہی تومیری دادی کے بچھڑے ہوئے بھائ نہیں ہیں وہ اپنے بھائی کا نام مصطفی بتایا کرتی تھیں۔۔حمزہ نے گویا بم پھوڑ دیا۔تمہاری دادی کا نام نجمہ تو نہیں تھا؟ مصطفی صاحب نے غیریقینی انداز میں اس سے پوچھا، "جی جی میری دادی کا نام نجمہ ہی تھا وہ اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑی تھیں ان کے بعد ان کا بھائی مصطفی تھا پھردوچھوٹی بہنیں تھیں"حمزہ نے پر جوش انداز میں جواب دیا ،
" اچھا تو تم نجمہ باجی کےپوتے ہو۔۔۔بیٹےمیں ہی وہ مصطفی ہوں جس سے ملنے کی آس لیےمیری باجی ملک عدم سدھارگئیں۔ کب ہواان کا انتقال ؟انھوں نے بیتابی سے پوچھا ۔جی تین مہینے پہلے حمزہ نے افسردگی سے جواب دیا۔۔۔کاش میں نے پچھلےسال ہی تم لوگوں سے بات کی ہوتی ۔۔۔
۔۔۔۔۔اوہ خدایا! میری باجی کا بیٹا یعنی مجھےماموں کہنے والا بھی کوئ موجود ہے۔۔۔ میرا کوئ اپنا۔۔۔۔،میرا سگا۔۔۔ ۔مصطفی صاحب کےمنہ سےبےربط جملےنکل رہے تھے حمزہ نے فوراً آگے بڑھ کے ان کو گلے سےلگا لیا ۔اکرم ،نعمان اور احمد دم سادھے کھڑے تھے۔۔۔نعمان نے ہمت کر کے کہنا شروع کیا "انکل ہم نے تو آزاد فضا میں آنکھ کھولی ،منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے،ہرطرف کرپشن لوٹ مار اور اختیارات کا ناجائز استعمال دیکھا, ھمیں صحیح اور غلط کا شعور دینے والا کوئی نہیں تھا لہذا ہم بھی اسی ڈگر پر چل پڑے، ابھی ہم اتنے بگڑے ہوئےنہیں ہیں کہ آپ کی بات سمجھ نہ سکیں.
مصطفی صاحب کو آج دوہری خوشی مل گئی تھی ایک تو ان کے بچھڑے ہوئے رشتے ان کو مل گئے اور دوسرے جو پیغام وہ نوجوان نسل کو دینا چاہ رہے تھے وہ ان تک پہنچ گیا ان کے ریسٹورنٹ میں لگی ایل سی ڈی پر ملی نغمے کی گونج دور دور تک جا رہی تھی

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کے

شہر شہر کی خبریں

جے آئی یوتھ (وومن)ضلع غربی کے تحت "بنو قابل " کی طالبات کیلئے "عید ملن گالا " کا انعقاد

کراچی ( نمائندہ رنگ نو ) جے آئی یوتھ (وومن)ضلع غربی کے تحت "بنو قابل " کی طالبات کے لیے ایک دلچسپ تقریب "عید ملن

... مزید پڑھیے

ہمدرد پاکستان اور کراچی کنگز کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

کراچی(نمائندہ رنگ نو) ہمدرد پاکستان صحت کے شعبے کے ساتھ ساتھ غذائیت سے بھرپور مصالحہ جات میں ایک معتبر اور نمایاں نام ہے، جو

... مزید پڑھیے

جے آئی یوتھ ویمن ونگ کا دارارقم سکول گارڈن ٹاؤن برانچ سےاظہار تشکر

بہاولپور (رپورٹ : سنیہ عمران)جے آئی  یوتھ ویمن ونگ بہاولپور  نے دار ارقم سکول کی انتظامیہ سے اظہار تشکر کیا ہے اور کہا

... مزید پڑھیے

تعلیم

کراچی: سندھ میں نئے تعلیمی شیڈول کی منظوری، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات کی تاریخیں طے (تعلیم)

کراچی ( تعلیم ڈیسک )کراچی میں سندھ بھر کے تعلیمی نظام کے نئے شیڈول کی حتمی منظوری دے دی گئی جس کے تحت میٹرک کے سالانہ امتحانات 31

... مزید پڑھیے

پنجاب کے اسکولوں کی سردیوں کی تعطیلات میں توسیع، تعلیمی ادارے 19 جنوری کو کھلیں گے (تعلیم)

 لاہور ( تعلیم  ڈیسک )پنجاب کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی سردیوں کی تعطیلات میں توسیع کر دی گئی ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر

... مزید پڑھیے

پنجاب میں موسمِ سرما کی تعطیلات کا باضابطہ اعلان کردیا گیا (تعلیم)

لاہور ( ویب ڈیسک )پنجاب کے اسکولوں میں موسمِ سرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

... مزید پڑھیے

کھیل

پی ایس ایل 11: ملتان سلطانز کی شاندار جیت، صاحبزادہ فرحان کی سنچری نے میچ لوٹ لیا

لاہور ( اسپورٹس ڈیسک )لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کے سنسنی

... مزید پڑھیے

سابق ٹیسٹ کرکٹر اظہر علی کو پشاور زلمی نے سیزن 11 کیلئے ٹیم مینجمنٹ میں شامل

لاہور( اسپورٹس ڈیسک )پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی معروف فرنچائز پشاور زلمی نے سیزن 11 کے لیے سابق

... مزید پڑھیے

پاکستان کی بنگلہ دیش کے خلاف شاندار فتح، دوسرے ون ڈے میں 128 رنز سے کامیابی

ڈھاکا( اسپورٹس ڈیسک ) پاکستان کرکٹ ٹیم نے تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کے دوسرے

... مزید پڑھیے

تجارت

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی

کراچی( ویب ڈیسک ) عالمی اور مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس

... مزید پڑھیے

نئے سال 2026 میں کل سے پٹرولیم صارفین کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان

اسلام آباد ( ویب ڈیسک )نئے سال میں یکم جنوری 2026 سے صارفین کو پٹرول میں بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے،بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی

... مزید پڑھیے

اکتوبر 2025 کے دوران مہنگائی کی شرح ماہانہ بنیاد پر 1.83 فیصد بڑھ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)اکتوبر 2025 میں مہنگائی کی شرح ماہانہ بنیاد پر 1.83 فیصد بڑھ گئی۔ادارہ شماریات نے ماہانہ

... مزید پڑھیے

دنیا بھرسے

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو دوٹوک پیغام: مذاکرات کریں ورنہ سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے

 واشنگٹن ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) امریکی صدر ڈونلڈٖ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ایران بالآخر مذاکرات کی راہ اختیار کرے گا، بصورت

... مزید پڑھیے

امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام، ایران کا جوابی کارروائی کا اعلان

 تہران ( ویب ڈیسک ،فوٹو فائل ) کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ “خاتم الانبیاء” نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی تجارتی بحری جہاز پر فائرنگ کر

... مزید پڑھیے

پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالرز موصول، مزید مالی تعاون کی یقین دہانی

اسلام آباد( ویب ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےتصدیق کی ہےکہ پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالرز کے فنڈز

... مزید پڑھیے

فن و فنکار

گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کا شادی پر متنازع بیان، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

کراچی(فن وفنکارڈیسک) معروف پاکستانی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ ایک بار پھر اپنے حالیہ بیان کے باعث

... مزید پڑھیے

حاملہ ہونے کے باوجود تشدد: سحر حیات کا چونکا دینے والا انکشاف

لاہور:معروف پاکستانی ڈیجیٹل کنٹینٹ کری ایٹر اور اداکارہ سحر حیات نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ

... مزید پڑھیے

عشرت فاطمہ نے 45 سالہ طویل سفر کے بعد ریڈیو پاکستان کو الوداع کہہ دیا

پاکستان کی معروف اور سینئر نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے پی ٹی وی کے بعد ریڈیو پاکستان سے بھی

... مزید پڑھیے

دسترخوان

کریسپی چکن رولز

یاسمین شوکت

 

اجزاء

چکن بون لیس،اُبلااورریشہ کیاہوا،ایک کپ
اُبلےآلو،دوعدد،مسلےہوئے
ہری مرچ،دوعدد،باریک کٹی ہوئی
ہرا دھنیا، دو کھانے کے چمچ
چیڈر چیز، آدھا کپ

... مزید پڑھیے

کریمی اسٹفڈ چکن بالز

یاسمین شوکت

 

اجزاء

چکن کاقیمہ
ایک درمیانی پیاز،باریک کٹی ہوئی

دو سے تین ہری مرچیں، باریک کٹی ہوئی
ایک انڈہ

... مزید پڑھیے

چیز بھرے خستہ مرغی کے پراٹھے

 

اجزاء

مرغی کا مصالحہ بنانےکےلیے

بغیر ہڈی کاباریک کٹاہواچکن۲۵۰ گرام
ادرک لہسن کاپیسٹ ایک کھانےکاچمچ
پسی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ

... مزید پڑھیے

بلاگ

آج کا انسان (بلاک)

  غزالہ آصف       

آج ہر بندہ دوسروں کو گرانے کے چکر میں ہے۔کوئی  جھوٹ بول رہا ہے۔کوئی دھوکا دے رہا ہے تو کوئی  دوغلا پن دکھا رہا

... مزید پڑھیے

روح قربانی ( بنت اسماعیل)

 بنت اسماعیل

ذوالحجہ کا مبارک مہینہ قریب آ رہا ہے، جس میں روحانیت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ تمام عالم اسلام کے مسلمان مکہ مکرمہ اور

... مزید پڑھیے

کراچی کی فریاد (روزینہ خورشید)

  روزینہ خورشید

 میرے پاس روتا ،بلکتا، سسکتا "کراچی "کا ایک برقی خط آیا ہے جو میں آپ سب سے شیئر کرنا چاہتی ہوں ،پڑھ  کر سب اسے

... مزید پڑھیے