
روزینہ خورشید
"میرے بچے کا سر نہیں مل رہا۔ اللہ کےواسطے میرے حذیفہ کاسرڈھونڈنےمیں میری مدد کریں"۔ یہ ایک ممتا کی ماری فلسطینی خاتون کی دل دہلا دینے
والی صدا تھی جس کا شوہر پہلےہی بموں کی برسات میں شہید ہوچکاہےجس کے سرپرنہ چھت ہےنہ پاؤں تلےزمین ۔انبیاء کی سرزمین میں ظلم و بربریت کی وہ داستان رقم کی جا رہی ہے جس پر آسمان بھی نوحہ کناں ہے ۔غز ہ کی سرزمین پر طلوع ہونے والا سورج معصوم بچوں کے خون کی لالی کو اپنے اندر سمو کر جب غروب ہوتا ہے تو افق پر ابھرتی ہوئی سرخی چیخ چیخ کردنیا سےسوال کرتی ہےکہ ان معصوموں کا قصور تو بتا دو ۔۔۔
غزہ کے مظلوم خواتین ،بزرگ اور بچے ہمیں پکار رہے ہیں ۔۔۔ان کی مدد کے لئے اپنا کردار ادا کیجئے ۔۔۔انہیں مالی امداد بھیجیے۔۔اسرائیلی اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے۔۔۔۔لوگوں میں شعور بیدار کیجئے۔۔۔۔فلسطینیوں کے حق میں نکالے جانے والے مارچ میں شرکت کیجئے تاکہ ان تک یہ پیغام پہنچ جائے کہ ہمارے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔۔۔ ان کے غم کو محسوس کرتے ہیں ۔۔۔ ہم جب ان ننھے شہیدوں کی ویڈیوز نمناک آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ہمیں بھی راتوں کو نیند نہیں آتی۔راتوں کو اٹھ اٹھ کر ہم اپنے بچوں کو ٹٹولتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ وقت نیوٹرل رہنے کا نہیں ہے نہ ہی صرف گھر کے اندر بیٹھ کر دعائیں کرنے کا بلکہ حق کی خاطر نکلنے والوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کرچلنے کا ہے۔
آئیے 13 اپریل 2025 کو شارع فیصل پرغزہ مارچ میں شریک ہو کر ان سےاظہار یک جہتی کابھرپورثبوت دیں تاکہ اپنا شمار تماشہ دیکھنے والوں کے بجائے آگ بجھانے والوں میں کرا سکیں اور روز قیامت اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندگی سے بچا سکیں۔
دلیل کیا مجھ سے مانگتے ہو
نبی کی امت کا حال دیکھو
قدم گھروں سے نکالنے کا
جواز تم کو بلا رہا ہے





































