
نصرت مبین
ارضیات ایک اہم سائنسی علم ہے جیالوجی سے کہا جاتا ہے۔ اس میں زمین کی ساخت، اجزاء، تاریخ اور اس پر ہونے والی قدرتی تبدیلیوں کا مطالعہ
کیا جاتا ہے۔
زمین تین بنیادی حصوں پر مشتمل ہے
قشر ، مینٹل اور مرکز
یہ ارضیات کی اہم شاخوں میں شامل ہیں
یہ علم قدرتی وسائل (تیل، گیس، معدنیات) کی تلاش، زلزلوں کی وجوہات سمجھنے، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے مطالعے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔زمین پر قدرت کے بے شمار حسین مظاہر پائے جاتے ہیں جن میں پہاڑ، میدان، ریگستان، دریا، سمندر، وادیاں، جنگلات اور جھیلیں شامل ہیں۔ پہاڑ زمین کو بلندی اور خوبصورتی دیتے ہیں، میدان زراعت کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں جبکہ ریگستان خشک اور ریتیلے علاقے ہوتے ہیں۔ دریا اور سمندر پانی کے بڑے ذخائر ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں اور جنگلات ماحول کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ تمام قدرتی عناصر زمین کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں اور انسانوں کے لیے بے حد اہمیت رکھتے ۔
پاکستان میں یہ تمام چیزیں بدرجہ اتم موجود ہیں ،سیاحت کے لئے پاکستان کو بہترین مانا جاتا ہے۔دوسری بلند چوٹی پاکستان میں ہے جسے سر کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے بیرون ملک سے کوہ پیما آتے ہیں ۔معدنیات کا ذخیرہ ہے جس پر قبضہ کرنے انہیں حاصل کرنے کے دنیا کا دل مچلتا ہے۔
قرآن مجید میں زمین کی تخلیق، پھیلاؤ اور اس میں موجود نشانیوں کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں جن میں اسے انسانوں کے لیے ایک بچھونا اور جائے پناہ قرار دیا گیا ہے۔ زمین کو پہاڑوں، دریاؤں، اور مختلف پھلوں سے سجایا گیا ہے اور یہ انسانوں کے لیے ذریعہ معاش ہے۔
زمین سے متعلق اہم قرآنی نکات:
زمین کا بچھونا ہونا: قرآن پاک میں کئی مقامات پر زمین کو بچھونا (فرش) کہا گیا ہے تاکہ انسان اس پر سکون سے رہ سکیں اور سفر کر سکیں۔
اس پر کشش ثقل اسی لئے رکھی ہے ورنہ انسان اس پر سے لڑک جا تا
پہاڑ اور دریا: زمین میں پہاڑوں کو اس کی مضبوطی اور توازن کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
پیداوار اور پھل: زمین پر ہر قسم کے پھل، نباتات اور رزق پیدا کیا گیا ہے۔
سات آسمان اور زمین: قرآن نے سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی سات زمینوں کا بھی اشارہ ملتا ہے۔
زمین کی وسعت: زمین کو اللہ تعالیٰ نے پھیلایا اور بچھایا ہے تاکہ زندگی کا نظام چل سکے۔
اللہ نے انسان کو خلیفة الارض بنایا اسی کے لئے زمین اور اس کے موجوداد کو تخلیق کیا وہ رب عظیم جو ستر ماوں سے بڑھ کر چاہتا ہے ۔یہ کائنات ،یہ زمین اس کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور محبت کی انتہاء یہ ہے جب قیامت برپا ہوگی تو سب کچھ ختم ہو جائیگا نہ زمین رہے گی نہ اس میں موجود اشیاء کیونکہ جس محبوب کے لئے یہ اہتمام کیا ہے اسے ہی اپنے پاس بلا لیا ہے۔




































