
افروزعنایت
علامہ اقبال برصغیر پاک و ہند کے وہ عظیم شاعر ہیں جنہیں ہر دور کا شاعر کہا جاتا ہے بلکہ ان
کی شاعری کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ بچوں نو جوانوں اور عمر رسیدہ سب کے پسندیدہ شاعر مانے جاتے ہیں، ان کی شاعری صرف لطف اندوز ہونے کا ذریعہ نہیں بلکہ نصیحت اور آگہی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ـ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو بیدار کرنے میں علامہ اقبال کا بڑا ہاتھ ہے۔ پاکستان ان کا خواب تھا جس کی تعبیر (آزاد اسلامی ریاست ) قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔آزادی کی شمع روشن ہونے کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں نے سر اٹھا کر جینا سیکھا ــ۔
علامہ اقبال کی شاعری کا مطالعہ کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہر شعر ہمارے لئے ہی لکھا گیا ہو ,ـ اس میں ہمارے لئے نصیحت اور آگہی کے دروازے کھلتے ہی جاتے ہیں۔
ــ
میں یہاں صرف ایک شعر کو آپ سب سے شئیر کر رہی ہوں کس قدر گہرائی ہے، پیغام ہے، ہم سب کے لیے ان دو مصرعوں میں ـ ملاحظہ فرمائیں ـــ۔
سبق پڑھ پھر صداقت کا ،عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اس شعر میں ایک مسلمان حکمران سے لے کر ادنیٰ سے ادنیٰ کارندے اور ذمہ داران کو بلکہ ہر ادارے کے افراد کو اپنے فرائض کو ایمانداری سچائی و خلوص نیت سے انجام دینے کی نہ صرف نصیحت کی گئی ہے بلکہ اس کے اجر اور انعام سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ ــ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بحیثیت ایک ماں کے ، مجھے بھی خاص پیغام پہچایا گیا ہے۔ ــ
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے علامہ اقبال کے شعر کی ان ہی مذکورہ بالا خصوصیات یعنی ایمانداری ،سچائی ، عدل و انصاف و بہادری کی خصوصیات کی بنا پر پوری دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے اور حکمرانی کی بلکہ دنیا کے کونے کونے تک اسلام پھیلایا ــ اور فی زمانہ ان ہی خصوصیات اور خوبیوں سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے ہم کس طرف جا رہے ہیں ,اس سے ہم سب آگاہ ہیں ــ ,صرف اپنی مملکت پاکستان کے حالات کو ہی دیکھ لیجیے ان اہم خوبیوں اور خصوصیات سے محروم افراد نے ملک کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے ــ .
کیا علامہ اقبال نے ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا ؟؟؟




































