حمیرا اکرم
کبھی ہاتھ میں پنسل کو مسلسل گھمایا ہے۔ آپ جس طرف مرضی جس طرح مرضی چاہیں، اس کو گھماتے رہیں، وہ آپ کے مطابق گھومتی رہے گی،
اس کی اپنی کوئی مرضی یا خوہش نہیں ہوگی، وہ آپ کے مطابق گھومے گی تو آپ اسے کیا کہیں گے۔
ہمارے ایک استاد نے بہت ہی خوبصورت انداز میں یہ بات سمجھائی کہ اگر آپ ایک ندی کے کنارے بیٹھے ہیں اور پاس ہی چھوٹی سی چوٹی سے کوئی پتھر ندی کے اندر گرتا ہے تو کیا ہو گا ۔ ہم نے جواب دیا وہ ڈوب جائے گا مگر استاد نے کہا کہ یہ منفی سوچ ہے یوں نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ ڈوب جائے گا بلکہ وہ پتھر ندی کے پانی کا سینہ چیرتا ہوئے اس کی گہرائی میں اپنی جگہ بنا لے گا اور اب اس کی جگہ اور کوئی نہیں لے سکتا حتی کہ پانی بھی نہیں جبکہ پاس ہی موجود ایک درخت کا پتہ یہ نظارہ دیکھتے ہوئے ندی میں گرے گا تو وہ کیا کرے گا وہ اپنی جگہ بنانے کے بجائے ندی کے بہاؤ کے ساتھ بہتا چلے جائے گا مطلب جدھر کی ہوا ادھر چلے چلو۔ اس کا اپنا کوئی وزن اپنی کوئی وقعت نہیں بلکہ آٹو موڈ کے مطابق جہاں کوئی لے چلا وہاں چل پڑا۔
بالکل آج کے دور میں ہم نوجوانوں کا بھی یہی مسئلہ ہے جو معاشرے کا رواج ہے جو سوشل میڈیا کا ٹرینڈ ہے جو خاندان کی روایات ہیں بس ان ہی کے مطابق چلنا ہے ،بس ان ہی کی پیروی کرنی ہے چاہیے، اس میں کوئی قباحت ہی کیوں نہ ہو۔ سوشل میڈیا کے ایسے ایسے ٹرینڈ فالو کیے جاتے ہیں جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ اچھی خاصی عقل رکھنے والے کو تو سمجھ نہیں آتی کہ یہ ہو کیا رہا ہے مگر ہماری زندگی تو دوسروں کے مطابق چلتی ہے باقی لوگ کر رہے ہیں تو ہمارے کرنے سے کیا ہو جائے گا ،چاہے اس چیز کا نقصان ہی کیوں نہ ہو وہ چیز بے مقصد ہی کیوں نہ ہو، ہم نے دوسروں کی اندھی تقلید کرنی ہےحالانکہ اس ذات کریم نے ایسے ہی ہر انسان کو پیدا نہیں کیا بلکہ ہر اک شخص ایک مقصد لے کر پیدا ہوا ہے۔
ہم اپنی پیدائش کے بارے میں سوچیں تو سمجھ آئے کہ اس دن کتنے ایسے ہوں گے جو آنکھ کھولنے سے پہلے ہی اپنے خالق سےجا ملے ہوں گے ،کتنے ہی ایسے ہوں گے جو بے شمار بیماریوں کے ساتھ اس دنیا میں آئے ہوں گےمگر پھر بھی ہم ان سب میں بخیر و عافیت اس دنیا کا حصہ بنے ہیں۔ اسی طرح کتنے ہی ہمارے اردگرد ایسے ہوں گے جو جوانی تک پہنچ ہی نہیں سکے ہوں گے بلکہ بچپن لڑکپن میں ہی اللہ کو پیارے ہو چکے ہوں گے۔ اسی لیے ہمیں فالو سمجھنا ہوگا کہ ہم ایسے ہی نہیں اس دنیا میں آ گئے بلکہ ہم بہت خاص ہیں ہماری بہت اہمیت اور وقعت ہے کہ ہم جو اس جوانی میں پہنچے ہیں ہمیں جو زندگی ملی ہے اس کا کوئی مقصد ہے کوئی تو وجہ ہوگی کہ ہم آج ادھر موجود ہیں خود کو فضول اور نکما سمجھنا چھوڑ دیں۔ بقول علامہ اقبال
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنی وقعت اور اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ آٹو موڈسے ہمیں مینول موڈ میں آنا ہوگا۔ ہمیں اپنی زندگی کو دوسروں کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھوں میں لینا ہوگا تاکہ ہر کوئی اپنی مرضی سے ہماری زندگی کو گھما نہ سکے، اپنی ذات پر کام کرنا ہوگا۔ اس رب ذوالجلال کے سپرد خود کو سونپ دینا ہوگا کہ بس اسی کے مطابق زندگی گزارنی ہے کیونکہ وہ ہمیں بنانے والا ہے وہ ہمارا خالق ہے ،اس لیے وہ ہمارے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ اور جب ہم خود کی سمجھ کو جان جائیں گے خود کی اہمیت کو پہچانیں گے تو اس ذات کریم سے خود ہی جڑ جائیں گے۔
علامہ اقبال نے اس بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ہم معاشرے، خاندان اور سوشل میڈیا کے آٹو موڈسے باہر نکلیں گے خود کو جانیں گے اپنی عقل کو استعمال کر کے چیزوں اور معاملات کو پرکھیں گے اور خود پر کام کر کے خود کو سنواریں گے۔
\




































