
حمیرااکرم
سکتہ کے مریض کا آخری امتحان اس طرح کیا جاتا ہے کہ اس کے منہ کے پاس آئینہ رکھ دیتے ہیں۔ اگرآئینہ پر کچھ دھندلاہٹ پیدا ہوتو سمجھتے ہیں کہ ابھی
جان باقی ہے، ورنہ اس کی زندگی کی آخری امید بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی کسی بستی کا تمہیں امتحان لینا ہو تو اُسے رمضان کے مہینے میں دیکھو۔ اگر اس مہینے میں اس کے اندر کچھ تقوی، کچھ خوفِ خدا، کچھ نیکی کے اجزاء کے ابھار کا جذبہ نظر آئے تو سمجھو ابھی زندہ ہے۔ اور اگر اس مہینے میں نیکی کا بازار سرد ہو، فسق و فجور کے آثار نمایاں ہوں، اور اسلامی حس مردہ نظر آئے، تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ لو۔ اس کے بعد زندگی کا کوئی سانس مسلمان کے لیے مقدر نہیں ہے۔
(سید ابوالاعلیٰ مودودی)
رمضان ہماری زندگی میں آتا ہی اس لیے ہے کہ ہم خود کو نئے سرے سے تیار کریں اپنے ایمان کی تجدید کریں اپنے دلوں اور زندگیوں سے دنیا کے زنگ کو کھرچیں اور ایمان کی پاک ملمع کاری کریں۔ گزشتہ سال میں کی گئی غلطیوں اور گناہوں کا کفارہ ادا کریں۔
صحیح بخاری
حدیث نمبر: 1901
ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
اتنی بڑی خوشخبری اور اجر کے بعد بھی اگر انسان رمضان میں اپنے دل کو اپنے معمولات کو نہ بدلے تو پھر ایک حدیث کے مطابق ہلاک زدہ لوگوں میں شامل ہو جائے گا۔ پھر اس کا بھوکا پیاسا رہنا اللہ کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اگر ہم پچھلی ڈگر پر چلتے رہیں گے اور اللہ کی اس نعمت سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے کہ جس میں موقع دیا جاتا ہے کہ جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہو جائیں۔ تو پھر ہم نام کے مسلمان رہ جائیں گے جس کے لیے نہ اس جہان میں کوئی بھلائی ہو گی اور نہ ہی دائمی جہان میں کوئی اجر و انعام ہوگا۔ حدیث کے مطابق
صحیح مسلم
حدیث نمبر: 2496
"حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان المبارک آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔" یعنی آپ کو کھلی اجازت ہے چاہے تو عبادات (نماز، فرائض و نوافل) میں خود کو مگن رکھیں اور اس کے خاص دروازے میں سے داخل ہو جائیں چاہے تو صدقات و خیرات بھرپور انداز میں کریں اور اس دروازے سے داخل ہو جائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ رمضان کے بابرکت مہینے میں اپنے بندے کی بھلائی اور فلاح کا ہر موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی مغفرت کرالے اپنا نام جنت میں جانے والوں کی فہرست میں شامل کرالے۔
رمضان جیسی نعمت پا کر اور پھر اس میں اجر و انعام کی فہرست جان کر انسان کو سمجھ آتی ہے کہ اللہ عزوجل واقعی ہی انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے کہ وہ ہر وقت انسان کو توبہ کرنے اور پلٹ آنے پر زور دیتا ہے۔
باقی تمام عبادات کا اللہ نے کوئی نہ کوئی اجر مقرر کیا ہے مگر روزے کے بارے اجر کے بارے میں حدیث ہے کہ
صحیح مسلم
حدیث نمبر: 2704
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابن آدم نے ہر عمل اپنے لئے کیا سوائے روزوں کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا تو قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو مشک سے زیادہ پاکیزہ (اور خوشبودار) ہے۔
جب انسان اکیلا ہوتا ہے مگر پھر بھی اللہ کے ڈر کی وجہ سے وہ ہر اس حلال شےاور حلال کام سے بھی باز رہتا ہے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ اسی لیے اللہ نے اس کا اجر بھی اپنے ذمے رکھا ہے۔
اسی لیے رمضان میں جہاں گھروں کی صفائیاں عید کی تیاریاں اور باقی کام زور و شور سے جاری ہوتے ہیں وہیں ہم نے اپنے لیے اپنے نفس کے لیے بھی کچھ کرنے ہوتے ہیں۔ رمضان میں اور رمضان سے پہلے ہمارے کرنے کے کام کیا ہیں:
1- نیت:
"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے"
(صحیح بخاری
حدیث 1)
تو جیسی نیت ہو گی ویسا ہی اس کا انجام اور اجر ہوگا۔ اس لیے رمضان کے آنے سے پہلے اپنی نیتوں کو خالص کرلیں اپنے دلوں کی صفائی کرلیں۔ ہمیں اپنے دلوں سے حسد، کینہ، بغض اور نفرتوں کو دھونا ہوگا۔ اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے رکھی جانے والی کدورتوں کو صاف کرنا ہوگا اپنی نیتیں خالص اللہ عزوجل کے لیے رکھنی ہوں گی۔ (اللہ کے لیے دوسروں کو معاف کرنا ہوگا اور بہتر انسان بنانا ہوگا تاکہ پھر اللہ ہمیں معاف کرے۔ پورے رمضان تمام عبادات، تمام صدقات، تمام معاملات صرف اللہ کی رضا کو سامنے رکھ کر کرنے ہوں گے تبھی ہم رمضان کا اصلی اجر سمیٹ سکیں گے۔ اس لیے رمضان سے پہلے اور رمضان میں اپنی نیتوں اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کو صرف اللہ کی رضا کے لیے مختص کرنا ہے۔
2- دُعا
ہم کوئی بھی کام اللہ کی توفیق اور مرضی سے نہیں کر سکتے۔ اس لیے اللہ سے توفیق مانگیں اللہ سے دُعا مانگیں کہ جو بھی عمل کرنے کی نیت ہم کر رہے ہیں ان کے لیے ہمیں ہمت دے، ہماری نیتیں خالص کرے ہمیں عافیت دے۔ اللہ عزوجل سے مانگیں کہ یہ رمضان پچھلے رمضان سے بہترین ہو۔ ہم ہلاک شدہ لوگوں میں شامل نہ ہوں بلکہ ان لوگوں میں شامل ہوں جو بخش دیے جائیں گے۔ جو اس رمضان کی تمام برکتیں اور رحمتوں کو سمیٹ سکیں۔
ہمارے ہاتھوں یا ہماری ذات، ہماری زبان سے کسی کو کوئی ضرر نہ پہنچے۔ اس کے علاوہ بھی رمضان میں مانگنے کے لیے اپنی دعاؤں کی ایک لسٹ بنا لیں کہ آپ کو دنیا اور آخرت دونوں کے لیے کیا کیا چاہیے اور ان منتخب دعاؤں کو روزانہ کی بنیاد پر اللہ کی بارگاہ میں پیش کریں۔ ایمان، صحت، مال، رزق، اولاد، سکون، غرض ہر ایک چیز کو اپنی دعاؤں میں شامل کریں۔
نوافل
رمضان میں فرض عبادات کی تو الحمدللہ عادت بن جاتی ہے مگر ان کے ساتھ ہمیں نوافل کا بھی اہتمام کرنا ہوگا۔ چاہے وہ تہجد ہوں یا تراویح اس کے علاوہ بھی وقت نکالیں ہر نماز کے ساتھ نفل، اشراق، چاشت، اوابین کے نوافل کی بھی عادت اپنائیں۔ تاکہ اس خاص مہینے میں ہم اللہ عزوجل کا قرب حاصل کر سکیں۔
صدقات
نفلی نماز کے ساتھ ساتھ صدقات میں بھی ہم نے دل کھول کر حصہ لینا ہے۔ ایک حدیث ہے کہ جب رمضان آتا تو حضور اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم) کی سخاوت اور دادو دہش کی کوئی انتہا نہیں رہتی ، آپ اپنی فیاضی میں بارشلانے والی ہوا کی مانند ہوجایا کرتے تھے۔
بخاری و مسلم
تھوڑا دیں یا زیادہ دیں، دینے والا ہاتھ بنیں۔ وہ خزانوں کا مالک ہمیں اس سے کئی گنا عطا کرے گا۔
نیکیوں میں سبقت
رمضان میں ہر نیکی کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے اس لیے ہر لمحہ اس موقع میں رہیں کہ جو نیکی کا بھی موقع ملے اس کو حاصل کر لیا جائے۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں اپنے نامہ اعمال میں جمع کرنے کی عادت اپنائیں۔ کوئی اچھی چیز بنائی ہے تو پڑوسیوں کو تھوڑا سا حصہ دے دیں، بزرگوں کو وقت دیں، مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجا کر رکھیں، معاف کر دیں کسی کی مدد کر دیں غرض جہاں سے نیکی کا موقع ملے اسے جانے نہ دیں۔
ذکر
ہر وقت ہر لمحہ رمضان میں اپنی زبان کو اللہ عزوجل کے ذکر سے تر رکھیں۔ مختلف اذکار اور قرآنی اور مسنون دعائیں اور درود شریف کا ورد جاری رکھیں۔ صبح و شام کے اذکار کو لازمی پکڑیں تاکہ شیاطین اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں۔ جب ہماری زبان ذکر میں مصروف رہے گی تو باقی گناہ غیبت، جھوٹ، چغلی سے انسان محفوظ رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ رمضان کے ہر عشرے کی مخصوص دعائیں پڑھیں۔ آخری عشرے کی دعا کے ساتھ قیام اللیل، لیلۃ القدر کی وہ خاص دعا ضرور اپنی روزمرہ میں خاص کر طاق راتوں میں عبادت کے دوران لازمی پڑھیں جو حضرت محمدؐ نے حضرت عائشہؓ کو سکھائی۔
قرآن سے تعلق
رمضان کے مہینے کی فضیلت کی سب سے اہم وجہ اس ماہ میں قرآن پاک کا نزول ہے۔ اس لیے اس بابرکت ماہ میں اپنا تعلق قرآن سے مضبوط کریں اور اس کا بھرپور حق ادا کریں۔ قرآن کی تلاوت کے ساتھ اس کا ترجمہ، تفسیر اور تدبر کے لیے بھی وقت نکالیں۔ ایسا نہیں کہ اسی مہینے میں ہی جلدی جلدی ترجمہ تفسیر ختم کر دیں بلکہ ایک عادت بنائیں تھوڑا تھوڑا مگر مسلسل روزانہ کی بنیاد پر کریں اور پھر اسی عادت کو جاری رکھیں تاکہ اگلے رمضان تک ہم تفسیر و ترجمہ کے ساتھ ساتھ تدبر بھی مکمل کر لیں۔ حفظ کی عادت بھی اپنائیں چاہے دو آیتیں ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ حفظ کی بھی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے اپنے پڑوس میں یا جہاں تک آسانی ہو دورہ قرآن میں لازمی شرکت کریں۔ غرض جس طرح ہو سکے خود کو قرآن سے جوڑ کر رکھیں۔
حقوق العباد
ہم رمضان کے ماہ میں حقوق اللہ کی ادائیگی میں بہت محتاط ہوتے ہیں مگر حقوق العباد میں کہیں نہ کہیں ڈنڈی مار دیتے ہیں۔ ہر اس موقع پر وہ حدیث لازمی یاد رکھنی چاہیے کہ حضور اکرم نے فرمایا میری امت میں اصل مفلس ایسا شخص ہے۔ اس کی تمام نیکیاں دعوے داروں کو دے دی جائیں گی پھر بھی دعوے ختم نہ ہوئے تو دعوے داروں کے گناہ اس کے سر ڈالے جائیں گے۔
صحیح مسلم
اس لیے سوراخ والے برتن میں اپنی نیکیاں جمع نہ کریں کہ آخر میں ہمارے پاس اللہ عزوجل کو پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو اور ہم خالی ہاتھ رہ جائیں۔ اس لیے اپنے معاملات درست کریں دلوں سے نفرتوں اور کدورتوں کو ختم کریں۔ معاف کرنا سیکھیں تاکہ ہم بھی معاف کیے گئے لوگوں میں شامل ہوسکیں۔
قیام اللیل/ شب قدر
نوافل کے ذریعے ہی سے قیام اللیل کی بنیاد رکھیں۔رمضان کے آغاز سے ہی تھوڑا تھوڑا قیام اللیل کریں تاکہ آخری عشرے تک عادت پختہ ہوجائےاور ہم لمبا قیام کرسکیں۔ آخری دس بہت قیمتی اور اہم ہیں۔ یہ پورے رمضان کا اصل سرمایہ ہیں۔ان کی برکات کو ہم نوافل، قرآن اور دعاؤں کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ عزوجل سے شب قدر نصیب ہونے کی دعا مانگیں۔ طاق راتوں میں سب کام چھوڑ کر بس عبادت کریں اور تمام تر گزارشات اور دعائیں اس رب کے گوش گزار کردیں، اور مقرب لوگوں میں اپنا نام لکھوائیں۔ ان راتوں میں اس مخصوص دعا کا ورد نہ بھولیں جو نبی اکرم صلی الله عليه وسلم نے حضرت عائشہ رضی الله عنھا کو سیکھائی
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 3850
ترجمہ:ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دعا کرو
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے۔
اعتکاف
جس شخص کے لیے آسانی ہو اور وہ اپنے روزمرہ کام چھوڑ سکتا ہو تو وہ آخری دس دنوں کے لیے مسجد میں لازمی گوشہ نشینی اختیار کرے۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بس اللہ کی یاد اور عبادت ، قرآن، قیام اللیل میں خود کو مگن کردے، اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہو۔
صحیح بخاری حدیث نمبر: 2026
نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔
رمضان صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ہم ایک حد حلال سے رک سکتے ہیں تو مطلب ہم اتنی قوت ارادی رکھتے ہیں کہ جن اعمال سے اللہ عزوجل نے روکا ہے ان سے رک جائیں اور جن کا حکم دیا ہے ان میں مشغول ہو جائیں۔
صحیح بخاری حدیث نمبر: 1903
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
تو روزہ صرف پیٹ کا نہیں ہوتا بلکہ جسم کے ہر عضو کا روزہ ہوتا ہے۔ آنکھ کا روزہ یہ کہ وہ ان چیزوں کو نہ دیکھ کر جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوں اس لیے ٹی وی، موبائل فون، ڈرامے غرض اس طرح کی ہر چیز سے اجتناب کریں۔ کان کا روزہ یہ کہ وہ غیبت یا کلمات نہ سنیں اور اسی طرح زبان کا روزہ یہ کہ وہ ان چیزوں، باتوں اور کلمات کو نہ کہے جو اس کے اعمال کو ضائع کر دیں اور مزید گناہوں میں اضافہ کر دیں۔ نہ غیبت کی جائے نہ سنی جائے۔ ہاتھوں اور پاؤں کا روزہ یہ ہے کہ انسان وہ کام نہ کرے یا ان راستوں پر نہ چلے جن سے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔ غرض ہمارے جسم ہماری ذات کے ہر ہر حصے نے روزے کا حق ادا کرنا ہے تبھی ہم اس اجر کے مستحق ہو سکتے ہیں جس کا وعدہ اللہ عزوجل نے ہم سے کیا ہے۔
اس سمیع العلیم سے دُعا ہے کہ یہ رمضان ہمارے تمام گزرے ہوئے رمضان سے بہترین ہو ،اس میں ہم بے پناہ رحمتیں اور برکتیں سمیٹ کر یہاں سے صاف ہو کر خیرآباد ہوں تاکہ عید کی خوشی کی اصل روح پا سکیں۔ اللہ عزوجل سے دُعا ہے کہ صحت و تندرستی اور خیر و عافیت کے ساتھ اس رمضان کے تمام حق اور فرائض ادا کرنے کی توفیق دے۔
آمین۔
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْني فيه الجِدَّ والاجتِهادَ والقُوَّةَ والنَّشاطَ، وأعِذْني فيه من السَّآمةِ والفَترةِ والكَسَلِ والنُّعاسِ
”اے اللہ! اس مہینے میں مجھے (عبادات میں) جد و جہد، قوت اور نشاط عطا فرما، اور بوریت، تھکاوٹ، سستی اور نیند سے پناہ میں رکھ۔“
(الدعاء للطبراني:٩١٤)





































