
حمیرا اکرم
آج کل کے نوجوان اتنے سست ہیں، ان میں احساس نہیں کسی کی مانتے نہیں کسی کی
سنتے نہیں اور اس طرح کے بہت سے جملے جو ہم کہتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔ہم روزمرہ میں ایسے ہی اپنے اردگرد اور اپنے گھر میں نوجوانوں کو کوستے ہیں اور انہیں ناکارہ سمجھتے ہیںمگر کیا ہم نے کبھی اپنے نوجوانوں کو اس نظر سے دیکھا ہے جیسا ہم انہیں دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا کبھی ہم نے انہیں وہ عزت وہ اعتماد اور وہ بھروسہ دیا ہے جو ہم ان میں دیکھنا چاہتے ہیں؟ ان سے جس کی توقع رکھتے ہیں۔ ہمارے نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں بس سمت چاہیے ،رہنمائی چاہیے پھر وہ ہماری توقع سے بھی زیادہ ہمیں ردعمل دیں گے۔
ہمارے نوجوان بہت بہادر اور بہت احساس کرنے والے ہیں۔چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی دھماکہ سب سے آگے مدد میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ گہرے پانیوں میں اترنا ہو تو یہی نوجوان ہوتے ہیں جو اپنی جان داؤ پر لگا کر کسی کی جان بچاتے ہیں مگر کیا کبھی ہم ان کی ان کوششوں کو سراہتے ہیں؟ کیا کبھی ہم اپنے نوجوانوں کی دل سے تعریف کرتے ہیں کہ واقعی میں انہوں نے بہت بہترین کام کیے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے جوانی کی طرف قدم بڑھایا تھا، کالج کی طرف رخ کیا تھا تو ہم سب اپنے خاندان کے ایک "انکل" سے بھاگتے تھے کیونکہ وہ جہاں ہمیں پاتے چاہے وہ شادی کی محفل ہو یا سوگ کا گھر ہم سے سوال پوچھنے لگتے "چلو آج بارش ہو رہی ہے اس کی انگلش بتاؤ"، "چلو بتاؤ اگر حساب کے سوال میں جمع ضرب تقسیم اور نفی آ جائے تو کیا جواب آئے گا"۔ چلو یہ بتاؤ وہ بتاؤ۔ ایسا نہیں تھا کہ ہمیں آتا نہیں تھا یا ہم بتا نہیں سکتے تھے مگر ان کا لہجہ اور طنز و مزاح والا رویہ تھا جس کی وجہ سے ہم ان کی محفل سے بھاگ جاتے تھے اور پھر وہ کہتے تھے کہ آج کل کے بچے پڑھے لکھے ان پڑھ ہیں ۔ ان کو اتنی سمجھ نہیں، کتابیں پڑھتے ہیں اسکولوں میں مگر پھر بھی ان کو کچھ نہیں آتا۔ ایک ہم تھے کہ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی کیا کیا کچھ کرتے تھے۔
ہم نے اپنے بل بوتے پر سب کچھ کیا اتنی مشکلات جھیلیں مگر ہم پڑھے اور کامیاب ہوئے ہم نے اپنے ماں باپ کے لیے اتنا کچھ کیا ہم نے اپنے بہن بھائیوں اور اولاد کے لیے اتنا کچھ کیا۔ ہم مانتے ہیں کہ ہماری زندگی ان کی زندگی کے لحاظ سے بہت سہل اور آرام دہ ہے ،بچپن میں ذمہ داریاں نہیں، جوانی میں بوجھ نہیں مگر ہمارے اور ان کے دور کے لیے اپنے الگ مسائل ہیں۔ ہماری اپنے دور کی اپنی مشکلات اور ذمہ داریاں تھیں۔ بالکل اسی طرح ہمارے نوجوانوں کی ان کے دور کی اپنی مشکلات اوراپنے مسائل ہیں۔
جیسے ہمارے بزرگوں کے لیے بہت سے فتنوں اور ایمان سے منافی چیزوں تک رسائی نہیں تھی۔ ان کے پاس ہر خبر ہر معلومات تک پہنچ نہیں تھی۔ اب اگر ہم دیکھیں تو ہماری آنے والی نسلوں آنے والے نوجوانوں کے مسائل ہم سے زیادہ ہیں۔ ان کو وقت کے ساتھ چلنا ہے تاکہ پیچھے نہ رہ جائیں انہیں اب وقت کے لحاظ سے آگے بڑھنا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ آنے والے ہر نئے فتنے کا مقابلہ کرنا ہے خود کو ان سے بچانا ہے ،اپنے دین کو بچانا ہے۔ صحیح ذرائع کو ڈھونڈنا ہے۔ ان تک رسائی حاصل کرنی ہے مگر اس کے ساتھ غلط معلومات غلط علم سے خود کو بچانا بھی ہے۔
ہمارے نوجوانوں کو ایک راہ ایک مشعل ایک منزل اور ایک راہنما کی ضرورت ہے جو ان کو یہ بتائے کہ ان کے لیے کون سا راستہ ہے، ان کی اصل منزل کیا ہے وہ اپنے آباؤ اجداد سے کسی طور پر کم نہیں ہیں وہ اپنے دین اپنے ملک اور خود اپنی ذات کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں، صرف انہیں اپنا محور اپنا مرکز طے کرنا ہوگا ،اس کے لیے درست راستے کا انتخاب کرنا ہوگا اور خود کو اردگرد کی گندگیوں اور برائیوں سے بچانا ہوگا ۔راستے کے کانٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ راستے میں آنے والی چکاچوند رکاوٹوں سے اجتناب کرنا ہوگا تاکہ منزل سے بھٹک نہ جائیں راستے سے ہٹ نہ جائیں۔
ابھی اگر ہم اپنے نوجوانوں کو چھوڑ دیں گے ،ان کے لیے ایسے مواقع پیدا نہیں کریں گے کہ جوان کو ان سے ان کی ذات سے اللہ عزوجل کی ذات سے جوڑ کر رکھیں تو ہم خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ ہمارے پاس سے قیمتی سرمایہ ضائع ہو جائے گا۔ ہمارے یہ نوجوان ہمارا فخر ،ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہیں کہ ہم اس کی حفاظت کریں ،ان کے مستقبل کو محفوظ کریں۔ ہمیں ماضی کے صدمات اور زخموں کو ختم کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ اپنے نوجوانوں کا بہترین ساتھی بننا ہوگا تاکہ اگر وہ راستے سے بھٹک جائیں تو ان کے پاس واپس لوٹنے اور رہنمائی کے لیے کوئی موجود ہو۔
اقبال تیرے شاہین کے کیا کہنے
الجھے ہوئے زمانے میں لگا ہے رہنے
بس کچھ حوصلہ چاہیے کچھ اعتماد کے گہنے
واپس وہ لوٹے گا اپنے ہی ٹھکانے





































