
حمیرااکرم
حب یعنی محبت و پیار کہ جس پر کائنات کی ہر چیز انحصار کرتی ہے جس سے الجھے ہوئے سلجھتے ہیں اور بگڑے ہوئے کام احسن طریقے سے
ادا ہوتے ہیں۔ دنیا کی ہر شے کا وجود اسی کا مرہون منت ہے بہت سے بکھرے ہوئے کام اسی کے ذریعہ سمیٹے جاتے ہیں۔ انسان وہ تو سدا سے ہی اس محبت کا متلاشی ہے اور یہ چیز اس کی فطرت میں رکھی گئی ہے اور اس کی طبیعت محبت ہی پر قائم ہے۔ اس کو ہر کام ہر چیز میں محبت درکار ہوتی ہے انسان کی زندگی میں محبت کے مختلف مراحل ہوتے ہیں کبھی دوستوں یاروں کی محبت کبھی میاں بیوی کی محبت کبھی بچوں کی محبت کبھی بہن بھائی کی محبت تو کبھی ماں باپ کی محبت ہے۔ ہر محبت ہی انسان کی زندگی میں ضروری اور اہم ہوتی ہے ان محبتوں کے بغیر اس کی زندگی بے رنگ اور سوکھی ہو جاتی ہے اور وہ زندگی کی تمام رونقوں اور خوشیوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا کیونکہ انہی رشتوں میں محبت ہے اور اسی محبت میں اس کی زندگی ہے۔ ویسے تو ہر رشتے کا اپنا ایک مقام ہے مگر ماں، ماں جیسی انمول نعمت کا کوئی مول نہیں اس کی محبت کا کوئی قرض نہیں ادا کر سکتا اور نہ ہی اس جیسی محبت کوئی اور کر سکتا ہے۔
مولانا رومی ایک واقعہ لکھتےبہیں کہ ایک قافلہ اپنی منزل کی تلاش میں بھٹک رہا تھا بھوک و پیاس کی شدت سے سب نڈھال تھے تو ان کو عقلمند راہگزر نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ جس راستے پر جا رہے ہیں وہاں پر آپ کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ملے گا اور آپ ایسے ہی بھٹکتے رہیں گے آپ کی منزل بہت دور ہے لیکن اس بات کا خیال رکھیے گا کہ اس راہ پر ہاتھیوں کے جھنڈ ہیں اور اکثر ہاتھی کے چھوٹے بچے اپنی ماؤں سے جدا ہو کر اکیلے گھومتے نظر آتے ہیں اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اس اکیلے ہاتھی کے بچے کو دیکھ کر اس کا شکار مت کرنا ورنہ اس کی ماں آپ کو جہاں بھی پائے گی اپنے بچے کا بدلہ ضرور لے گی۔ لیکن بھوک کی شدت نے انہیں ہاتھی کے بچے کا شکار کرنے پر مجبور کردیا پھر وہی ہوا جس کے لیے انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا ہتھنی نے کوسوں میل دور سے اپنے بچے کی خوشبو کو محسوس کے کے انہیں دبوچ لیا اور ہوا میں اچھال کر اور سر کچل کر انہیں درد ناک موت دی۔
ایک ماں ہی ہے جو ساری دنیا اور سارے خطرات سے لڑ کر اپنے بچے کو بچا لیتی ہے.ایک ماں ہی ہے جس کی ساری خوشیاں اور ساری زندگی صرف اپنے بچوں کے لیے ہوتی ہے اور وہ انہی پر اپنی زندگی کی ساری خوشیاں نچھاور کر دیتی ہے۔ ایک ماں ایک انسان اگر اتنی بے مثال محبت سے بھرپور ہے۔
تو پھر ہم اس ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والی ذات کو کیسے بھول جاتے ہیں جس نے ماں جیسی ہستی بنائی اس میں اپنی محبت کا ایک حصہ ڈالا جو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔وہ اپنے بندے کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا بلکہ وہ اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب اس کا بندہ اس کی طرف پلٹ کر آئے اور وہ اسے اپنی رحمت کے دامن میں سمیٹ لے۔ وہ ذات لوٹ آنے والوں کے لیے اپنا در ہمیشہ کھلا رکھتی ہے۔ وہ بہت محبت اور پیار سے اپنے بندے کو تھامتا ہے، دنیا کے دکھوں اور غموں پر مرہم رکھتا ہے۔ وہ انسان کو اپنی رحمت کے سائے میں پناہ دیتا ہے، اسے خوشی اور سکون کی راہ دکھاتا ہے، اسے اندھیروں سے نکال کر روشنیوں میں کھڑا کرتا ہے۔ وہ خالق حقیقی ہے جو انسان کو بار بار تسلی دیتا ہے کہ اس دنیا کی تھکن اور آزمائش کا دورانیہ کم ہے پھر تم نے دائمی راحت اور سکون کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ اگر تم نے میری مرضی کے مطابق اس دنیا میں اپنی زندگی بسر کی صبر کیا مجھ ہی سے مدد طلب کی میری ہی طرف بار بار پلٹے تو اس فانی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی میں تمہیں سکون اور فلاح سے نوازوں گا۔ تم میری طرف آؤ تو سہی تمہاری ہر مشکل ہر پریشانی ہر حزن کا حل میرے پاس ہے۔ اگر تم میری طرف ایک قدم بڑھاؤ گے تو مجھے دو قدم اپنی طرف آگے پاؤ گے۔
نہ ثبوت ہے نہ دلیل ہے
میرے ساتھ ربِ جلیل ہے
تیرا نام کتنا مختصر
تیرا ذکر کتنا طویل ہے
حدیث کا مفہوم ھیکہ جب ایک بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ یوں خوش ہوتا ہے جیسے ایک شخص کا اونٹ سامان سمیت صحرا میں گم ہو جائے اور پھر اسے واپس مل جائے تو اس وقت اس شخص کو جتنی خوشی ہوتی ہے اس سے زیادہ ربِ کریم کو اپنے بندے کے لوٹ آنے کی خوشی ہوتی ہے اس کی توبہ کرنے پر خوشی ہوتی ہے۔ وہ خالق حقیقی اپنے بندے کی توبہ کے اتنے انتظار میں ہے کہ وہ انسان کو بار بار واپس پلٹ آنے کے مواقع فراہم کرتا ہے، آخری سانس تک اس کے پاس وقت ہے کہ وہ پلٹ کر آئے تو وہ اس کو تھام لے گا۔
تو پھر اپنی ہر امید ہر آس اس ربِ جلیل کے حوالے کردیں خود کو اسے سونپ دیں اپنے تمام معاملات اس کے سپرد کردیں، وہ قادر مطلق اس جگہ سے ہمارے معاملات ہماری مشکلات صحیح کرے گا کہ جہاں پر ہمارا گمان بھی نہیں جائے گا۔ تمام پریشانیاں، غم ورنج، تکالیف اور درد اسی کو بتائیں اسی سے کہیں صرف اس ذات کو اپنا حال کہہ دینے سے ہی حالات میں بہتری آجائے گی۔ اس رب کی رحمت و محبت پر کامل یقین رکھیں اسی کو راضی کرنے کی بھرپور جدوجہد کریں اور اس کی رضا میں راضی رہنا سیکھیں تو پھر ہمارے لیے یہ فانی دنیا بھی اور آخرت کی دائمی دنیا بھی آسانی ، کامیابی اور سکون کا گہوارہ بن جائے گی۔
اَلّٰلھُمَّ اجْعَلْنِیْ اُحِبُّکَ بِقَلْبِیْ کُلِّہ وَاَرْضِیْکَ بِجَھْدِیْ کُلِّہ





































