
حمیرااکرم
واپسی جہاں سے بھی ہمیشہ مشکل اور صبرآزماء ہوتی ہےچاہے وہ کسی اپنے پیارے کےپاس سےواپس آنا ہو یا کسی غلط فیصلے یا راستے سے واپس
مڑنا ہویا گناہ کوچھوڑ کرآنا ہویا پھر اپنی آخری منزل کی طرف رواں دواں ہوناہو۔ کوئی بھی راستہ نہ خود انسان کے لیے اور نہ پیچھےرہ جانے والوں کےلیےآسان ہوتاہے۔
لیکن واپسی لازم بھی ہےاورضروری بھی کیونکہ یہ کائنات کا نظام ہے۔ زندگی اگر جمود کا شکار ہو جائے اور اس میں کوئی بدلاؤ نہ ہو تو انسان کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں اور طاقت کو زنگ لگ جاتا ہے۔واپسی انسان کو پھرسے سوچنے سمجھنے اور اپنے فیصلوں پر غوروفکر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے مگر انسان کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس کا یہ واپسی کا سفر اگر، مگر، کاش اور افسوس جیسے لمحات سے بھرا ہوا نہ ہو، چاہے وہ اپنوں کے پاس سے لوٹ رہا ہو یا اپنی ذات میں ہی واپسی کا سفر طے کررہا ہو یا پھر اپنے خالق حقیقی کی طرف رواں دواں ہو۔
جب ہم کسی اپنےکے پاس سےواپس آتے ہیں توبعض اوقات بہت سےخوش گوار لمحات کے ساتھ ساتھ کچھ پچھتاوےکچھ رنجشیں کچھ اداسیاں بھی ساتھ لاتے ہیں کہ کاش اس تھوڑے سےوقت میں بس خوشیاں ہی بکھیرتےاوراپنوں کےغم ہلکے کرتے ان کے دکھ سنتے انہیں حوصلہ دیتے مگر کچھ لمحات ہم نے اپنی انا اپنی ضد کی نذر کردیےہوتے ہیں اورپھر یہ پچھتاوے واپسی کا سفر مشکل بنادیتے ہیں اورآگے بڑھنے میں رکاوٹ بھی بنتے ہیں ۔ اسی لیے ہمیں ہر لمحہ ہر حال میں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے۔ اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنا چاہیے تاکہ جتنا بھی وقت ہو جس کے بھی ساتھ ہو محبت اور الفت کے بھرپور احساس کے ساتھ گزرے۔
مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آبھی نہ سکوں
جیسےاس زندگی میں دوبارہ موقع مل جاتا ہے کہ انسان اپنی غلطیوں کو سدھارے اگرکچھ غلط ہوگیا ہےتو اس کو صحیح کرلے ،کسی اپنے سے کسی رویے پر معذرت کرلے،کسی کو منا لے یا صحیح راستے کی طرف واپس لوٹ آئے۔ اپنی آخری منزل کے لیے پھر نئے سرے سے کوشش کرے اور بہترین سرمایہ جمع کرے کیونکہ ایک بار اس زندگی کا سفر ختم ہوا تو دوبارہ لوٹ آنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اس زندگی کو ہمیں ایک سفر ایک راہگزرکی طرح گزارنا چاہیے اور وہی سامان ہمارے پاس ہوجو ہماری کامیابی کا باعث ہو پچھتاوں سے بھرا وزن نہ ہو کیونکہ وہاں ان کو سنوارنے کا وقت نہیں دیا جائے گا۔ اس منزل کے لیے وہی ہوگا جو ہم نے یہاں کمایا ہوگا جس کے لیے ہم نے خود کو کھپایا ہوگا۔ اس لیے اس عارضی دنیا میں اپنی واپسی اور اپنی آخری منزل کی بہترین مہمانوازی کے لیے تیاری کرنی ہوگی اسی منزل کے لیے تگ ودو کرنی ہو گی تاکہ وہاں کی دائمی کامیابی سے ہم سرفراز ہو سکیں۔
اس کے لیے ہمیں ایک سنہری اصول اپنانا ہوگا کہ اس زندگی کو بس اپنے خالق حقیقی کی رضا میں مشغول کردیں اپنے رب کی رضا اور خوشنودی میں اس کو صرف کرلیں تو ہماری واپسی خودبخود بہترین حالت میں اور آسان ہوجائے گی اور اگلی زندگی میں بھی کامیابی اور سرفرازی نصیب ہوگی۔
رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً
وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً
وَّقِنَا عَذَابَ النَّار۔





































