
انیلا عمران
اللہ رب العزت نے اپنی اس کائنات کو ایک مکمل نظام کے ساتھ جوڑا ہے،دنیا کی ہر چیز ایک فارمولے کے مطابق بنتی ہے، اگر اجزاء کا تناسب ٹھیک نہ ہو تو
ہم کبھی بھی اس سے نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایک مخصوص تناسب سے بنتا ہے، اسی طرح کائنات کی ہر چیز ایک فارمولے کی محتاج ہے جو اسے با مقصد بناتی ہے۔
اسی طرح اللہ اور بندے کا تعلق بھی اس وقت تک بامقصد اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جب تک بندگی کے فارمولے پر پورا نہ اترے بندگی کا یہ فارمولا پانچ الفاظ پر مشتمل ہے 'جو' 'جب' جہاں' جیسے ' جتنا 'یعنی اس فارمولا پر عمل کرنے کے بعد انسان بندگی کے افق پر پانچ کونوں والا ستارہ بن کر چمکتا ہے
اپنے نفس اور خواہشات کے حصار سے نکل کر جب انسان رب کے سامنے خود سپردگی کی منزل کو پہنچتا ہے تو یہیں سے اس کا بلندی کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سفر اپنی ذات کی نفی کا سفر ہے کیونکہ خدا کو پانا اپنے وجود کی نفی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔اپنی ذات کی نفی انسان کی توہین یا کمزوری نہیں بلکہ یہ محدود سے لا محدود کی طرف ایک نئے سفر کا اغاز ہے ، یہ وہ لذت ہے جسے اقبال نے یوں بیان کیا۔۔۔
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
خدا کے سامنے جھکنا اصل میں زمانے کو اپنے سامنے جھکانے کا ذریعہ ہے ،خدا کے سامنے شکست کھانا بندگی کی معراج ہے ۔یہ وہ مقام ہے جہاں خدا لوح و قلم بندے کے حوالے کر دیتا ہےلیکن انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ تمام عمر اپنی ذات کی نفی نہیں کر پاتا اور اپنی اہمیت سے دستبردار نہیں ہوتا جبکہ خدا کے ہاں اپنی اہمیت کو ختم کرنا ہی ہمیں خدا کی نظروں میں اہم بناتا ہے ۔بندگی کے اس سفر میں جوجب جہاںجیسے جتنا کی پانچ بلند چوٹیاں اتی ہیں جنہیں سر کیے بغیر ہم کبھی بندگی کے افق پر ستارے بن کر نہیں چمک سکتے۔
اس سفر کی پہلی چوٹی' جو' ہے یعنی جو اللہ نے کہا اس کے سامنے غیر مشروط طور پر سر جھکائیں "جو اللہ اور اس کا رسول دے وہ لے لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ"اگلی منزل' جب' کی ہے یعنی جب اللہ کی پکار سنائی دے تو اسی سمت چل پڑو، سجدے کے وقت سجدہ جہاد کے وقت جہاد اور قربانی کے وقت قربانی۔۔۔۔
"مومنوں جب جمعہ کے لیے اذان دی جائے تو کاروبار زندگی بند کر دو"
سفر کی تیسری گھاٹی 'جہاں' ہے یعنی بندگی رب میں جہاں کھڑا ہونے کا حکم ملا وہیں قدم جما لو، اگر کسی درے پر کھڑے ہونے کا حکم ملا تو وہاں سے قدم مت ہٹانا یعنی اللہ کی حاطر کسی ناپسندیدہ جگہ پر کھڑا ہونا پڑے تو اسے خوش دلی سے قبول کر لو۔اگلی منزل 'جیسے 'کی ہے یعنی جو طریقہ دین نے وضع کیا ہے صرف وہی قابل قبول ہوگا نہ کہ کوئی خود ساختہ طریقہ زندگی۔۔۔
"رسول کی زندگی تمہارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے"
اس سفر کی آخری گھاٹی "جتنا "ہے "کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اور جس کا طریقہ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے"
یعنی نہ تو اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو پھلانگنا اور نہ ہی دین میں خود ساختہ پابندیاں لگانا یعنی فرض کو فرض سنت کو سنت اور نفل کو نفل کے درجے پر ہی رکھنا اور دین پر ترجیحات کے مطابق عمل پیرا ہونا یہ بندگی کے وہ مراخل ہیں جو انسان کو قرب الہیٰ عطا کر کے معرفت کے اس کوہ طور پر پہنچا دیتے ہیں جہاں خدا بندے سے خود پوچھتا ہے کہ بتا تیری رضا کیا ہے ۔
بندگی کا وہ عملی نمونہ جسے قرآن نے خود بیان کیا وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذات ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے بندگی کا حق ادا کر دیا، ابراہیم نے اللہ کے ساتھ وفا نبھائی اور بدلے میں اللہ کی دوستی پائی۔بندگی کے اس مقام پر پہنچ کر اللہ بندے کو دنیا سے بے نیاز کر کے عالم بالا کا مکین بنا دیتا ہے جہاں سر سجدوں میں ہوتے ہیں اور منزل آسمانوں میں نظر آتی ہے۔




































